SHAWORDS
N

Nasr Ghazali

Nasr Ghazali

Nasr Ghazali

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

taabir jaanti hai sar-e-daar kyon hue

تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے ہم خواب دیکھنے کے گنہ گار کیوں ہوئے بازار طوطا چشم سے لوٹو تو پوچھنا ہم بے مروتی کے خریدار کیوں ہوئے ہم پر عتاب دھوپ کا ہے تو سبب بھی ہے دشت الم میں سایۂ دیوار کیوں ہوئے احباب کی ہے بات کہیں تو کسے کہیں ہم سانپ پالنے کے گنہ گار کیوں ہوئے پل بھر ہمارے گھر میں بھی پھر ہم سے پوچھنا اس کاٹ کھاتی قبر سے بیزار کیوں ہوئے طرفہ نہ کیوں لہو کا ہو بے حد و بے حساب ہم شہر کاروبار میں فن کار کیوں ہوئے ہاں لائق سزا ہیں کہ بزم غزل میں بھی ہم لوگ مرثیہ کے طلب گار کیوں ہوئے

غزل · Ghazal

rishta badan kaa khatm huaa apni jaan se

رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے ملتی ہے شکل شہر کی میرے مکان سے خواہش کو اس کی جیسے کوئی دخل ہی نہ تھا یوں اس نے مجھ کو پھینک دیا آسمان سے کیسی لگی ہے آگ کہ بجھتی نہیں کبھی اک سلسلہ ہے کب سے دھویں کا چٹان سے منہ سے جو بات نکلی وہ پہنچی نگر نگر لوٹا نہ پھر وہ تیر جو نکلا کمان سے پتھر کے نیچے دفن ہے ہر حرف گفتنی اب صرف مصلحت کا ہے رشتہ زبان سے تیرو لہو میں اپنے تو ممکن ہے خود کو پاؤ دھلتا ہے صرف جسم ہی گنگا نہان سے

غزل · Ghazal

din ki dahliz pe Thahre hue saae bhi gae

دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے رات کیا آئی کہ اپنے بھی پرائے بھی گئے عکس تعبیر کا ابھرے یہ تمنا ہی رہی آئینے خواب کے آنکھوں کو دکھائے بھی گئے تہمت خوشۂ گندم ہے ابھی تک سر پر ہم اچھالے بھی گئے ہم کہ گرائے بھی گئے شجر درد کہ کل بھی تھا ہرا آج بھی ہے وقت کی دھوپ میں ہم گرچہ جلائے بھی گئے ہم تو ان میں ہیں جو روتے ہیں تو روتے ہی رہیں تم وہ خوش بخت کہ روئے تو ہنسائے بھی گئے قصۂ درد بہرحال سناتی ہی رہی گرچہ دیوار پہ سو رنگ چڑھائے بھی گئے

غزل · Ghazal

ham kyaa ki hadd-e-nazar tak saraab ki surat

ہم کیا کہ حد نظر تک سراب کی صورت نہ خاک خاک نہ اب آب آب کی صورت کھلا تھا میں بھی کبھی اک گلاب کی صورت تمام عمر جلا آفتاب کی صورت کنارہ کاٹ رہا ہوں وجود کا اپنے پٹک رہا ہوں میں سر موج آب کی صورت زباں جو سوکھ رہی ہے تو کچھ سبب بھی ہے سمندروں میں رہا ہوں حباب کی صورت برون شہر ہی کیا کہ درون شہر بھی ہے سلگتے لمحوں کا سورج عتاب کی صورت یہ خالی خالی سی شب لمحۂ سیہ سے بھری دکھائی تک نہیں دیتی ہے خواب کی صورت زمین جسم کے اندر جو زلزلے ہیں بپا انہیں چھپائے گی کب تک جناب کی صورت

غزل · Ghazal

vo khauf-e-jaan thaa ki lab kholnaa gavaaraa na thaa

وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشانہ ادھر ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا رفو طلب نظر آتا ہے دیکھیے جس کو لباس جاں تو کبھی اتنا پارہ پارہ نہ تھا خدا کرے کہ رہے مہرباں سدا تم پر عزیزو وقت کہ اک لمحہ بھی ہمارا نہ تھا اڑانیں بھرتے پرندوں کے پر کتر ڈالیں نظر کے سامنے ایسا کبھی نظارہ نہ تھا ہے دور حد نظر سے تو کیا قیامت ہے ہمارے پاس تھا جب تک وہ اتنا پیارا نہ تھا

غزل · Ghazal

haal maazi kaa silsila kaaTe

حال ماضی کا سلسلہ کاٹے وقت کی وقت ہر صدا کاٹے لمحہ لمحے کا یوں گلا کاٹے سانپ کو جیسے نیولا کاٹے گاؤں کا شہر سلسلہ کاٹے مہر و اخلاص کا گلا کاٹے اس طرح کاٹتی کہاں تلوار جس طرح خنجر انا کاٹے زیست کی تنگ کوٹھری اور میں جیسے مجرم کوئی سزا کاٹے کس تعلق کی ہے سزا آخر خود مجھے آج گھر مرا کاٹے ہے کوئی جیوتشی کہیں ایسا جو ہتھیلی پہ بھی لکھا کاٹے

Similar Poets