
Nasreen Syed
Nasreen Syed
Nasreen Syed
Ghazalغزل
یوں عشق جنوں خیز کو اندر سے نکالا سودا تھا جو وحشت کا اسے سر سے نکالا ہر جلوے میں تھا حسن مرے حسن نظر سے منظر تھا جدا خود کو جو منظر سے نکالا مٹی پہ کرم خاص تھا زرخیزیٔ جاں کا اک نم تھا جو درکار گل تر سے نکالا رستہ وہ قناعت نے دکھایا مجھے جس نے ہر حرص جہاں سے ہوس زر سے نکالا کھولی ہے ترے دل کی گرہ پھر بہ سہولت اک اور بھنور دل کے سمندر سے نکالا سمجھایا ہے جنت کے لیے مرنا ضروری یوں اس نے مجھے مرنے کے اس ڈر سے نکالا چھوڑا تھا ہمیں عشق کے گرداب میں دل نے پھر عقل نے آ کر ہمیں چکر سے نکالا پہلے تو رکھا رقص میں پرکار سا اور پھر مرکز مرا چھینا مجھے محور سے نکالا آتے ہیں نا اب کاٹنے دیوار و در و بام کس زعم پہ تو نے تھا مجھے گھر سے نکالا تھا مجھ کو یقیں ہجر کی ہے جانکنی دائم پھر وصل نے اس عرصۂ محشر سے نکالا مشکل جو پڑی مجھ پہ کبھی اس کا کرم ہے جس نے مجھے اس حالت ابتر سے نکالا صد شکر عطا کی ہے جگہ اگلی صفوں میں صد شکر کہ مجھ کو صف کم تر سے نکالا اس کار سخن میں یہ ہنر پایا ہے نسریںؔ گوہر جسے کہتے ہیں وہ پتھر سے نکالا
yuun 'ishq-e-junun-khez ko andar se nikaalaa
سکوں دینے لگا ہے ہجر اب آہستہ آہستہ کہیں مٹ جائے نا تیری طلب آہستہ آہستہ ہوئے جاتے ہیں اقلیم سخن کے جوں مکیں رخصت نہ غم خانہ بنے بزم طرب آہستہ آہستہ بتاشے سے گھلے جاتے ہیں اس کا نام لینے سے ہوئے جاتے ہیں کیسے شیریں لب آہستہ آہستہ یہ کیسی سرکشی بچوں کے ذہنوں میں ہے در آئی ہوا رخصت بزرگوں کا ادب آہستہ آہستہ پلاؤ زہر مت انساں کو نفرت کا تعصب کا بنے گا یہ تباہی کا سبب آہستہ آہستہ نجانے زندگی کا کب تماشہ ختم ہو جائے سمیٹو تام جھام اپنا یہ سب آہستہ آہستہ دمکتے رخ ستارہ آنکھ پر نسریںؔ گماں کیسا پڑے گی ماند ساری تاب و تب آہستہ آہستہ
sukun dene lagaa hai hijr ab aahista aahista
شہر آشوب میں الفت کی زباں بولتی ہوں پر جہاں بولنا ہوتا ہے وہاں بولتی ہوں تو نے دیکھی ہے ابھی لب پہ مرے مہر سکوت تو نے دیکھا ہی کہاں جب مری جاں بولتی ہوں نطق بخشا ہے مجھے رب نے عطا ہمت کی چاہے ظالم پہ بہت گزرے گراں بولتی ہوں میری خاموشی پہ جب جشن منانے لگے وہ پھر بھلا چپ کہاں رہتی ہے زباں بولتی ہوں کام جب عشوہ طرازی کی زباں آتی نہیں سنگ پگھلانے کو اشکوں کی زباں بولتی ہوں آنکھ سے آنکھ ہو جب محو تکلم نسرینؔ پھر زباں کھلتی کہاں ہے میں کہاں بولتی ہوں
shahr-e-aashob mein ulfat ki zabaan bolti huun
جو رنگ چڑھا دل پہ مرے تیز بہت ہے اب کے جو ہوا عشق جنوں خیز بہت ہے کیا جانیے کس طور سے دیکھا ہے کسی نے دل میں جو اٹھی موج طرب خیز بہت ہے وافر ہے مقدر میں مرے درد کی دولت کچھ یوں بھی مری چشم گہر ریز بہت ہے بخشے ہیں اسے عشق نے رقت کے خزانے پیمانہ مرے دل کا جو لبریز بہت ہے کیا بات بڑھے کم سخنی ہم کو بھی لاحق اور اس پہ وہ دلدار کم آمیز بہت ہے نسرینؔ رہے ڈور تعلق کی یہ قائم یہ سلسلۂ ربط دل آویز بہت ہے
jo rang chaDhaa dil pe mire tez bahut hai
ڈوبتے نے کیے کیا کیا نہ جتن پانی میں تو نے دیکھا نہیں رم کرتا ہرن پانی میں جان خستہ کو ہے درکار ترا چاہ ذقن جا کے اترے گی یہ صدیوں کی تھکن پانی میں معجزے پوچھ نہ جو بخشے گئے ہیں اس کو عشق وہ شے کہ لگا دے جو اگن پانی میں اس قدر اشک بہائے سر دریا مت پوچھ ہم نے شامل کیے جو گنگ و جمن پانی میں کیا کہوں کس طرح اس نے کیا غرقاب مجھے باندھ کر پھینکا گیا سنگ و رسن پانی میں ایسے کروٹ پہ لیے جاتی ہیں کروٹ لہریں جیسے لہراتی ہو بستر کی شکن پانی میں ہو کے غرقاب تمہیں کتنی سہولت دے دی غسل درکار نہ درکار کفن پانی میں راز پوشیدہ ہیں دل میں جو ترے کھل جائیں مے کسی دن جو ملا دوں میں سجن پانی میں آ کہ اس جھیل کو ہم آرسی مصحف کر لیں عکس در عکس ہی ہو جائے ملن پانی میں لب دریا جو ترے عشق میں دھمال کروں میرے گھنگھرو کی رچے چھن چھننن پانی میں ہے کسی یاد کی تلخی مرے اشکوں میں ضرور ورنہ اس درجہ چبھن ایسی جلن پانی میں تو ہے پیراک بجا پر تجھے معلوم نہیں تیرتوں کو جو ڈبونے کا ہے فن پانی میں حرف لہروں پہ کنول بن کے ہیں کھلتے نسرینؔ لکھ کے کاغذ پہ بہاتی ہوں سخن پانی میں
Dubte ne kiye kyaa kyaa na jatan paani mein
نہ پوچھ مذہب و نام و نسب سوال نہ کر جو ہے ترا ہے وہی میرا رب سوال نہ کر سوال کرنا ضروری ہے آگہی کے لیے مگر ہو آگہی آزار جب سوال نہ کر یہ تیرا خام تجسس نہ تجھ کو بھٹکا دے یہ ماجرا ہے توجہ طلب سوال نہ کر ابھی تو شہر طلسمات میں ہے پہلا قدم تو آ گیا ہے تو کر صبر اب سوال نہ کر کہاں سے رنگ دھنک دھوپ روپ میں اتری عطا ہے کس کی یہ البیلی چھب سوال نہ کر نہ پوچھ حرف ستاروں میں ڈھل گئے کیسے سخن کو کیسے ملی تاب و تب سوال نہ کر سفر میں کون کہاں میرا ساتھ چھوڑ گیا نہیں ہے جاننا لازم یہ سب سوال نہ کر یہاں تو بس سر تسلیم خم رہے نسرینؔ یہ عشق ہے ذرا حد ادب سوال نہ کر
na puchh mazhab-o-naam-o-nasab savaal na kar





