
Nausha Asrar
Nausha Asrar
Nausha Asrar
Ghazalغزل
یہاں چراغ کب اہل وفا کے جلتے ہیں جو ہم سفر ہیں وہی دور دور چلتے ہیں یہ کیسی آگ پلائی ہے سب کو ساقی نے کہ میکدے کے بھی نقش و نگار جلتے ہیں وہ جن کی بات میں خوشبو بسی ہے صندل کی انہیں کی اوٹ میں زہریلے سانپ پلتے ہیں چمن کا رنگ بدلنے کا ان کا وعدہ ہے جو موسموں کی طرح رنگتیں بدلتے ہیں نظر میں وقت کی رفتار ہر گھڑی رکھیے ملا سکے نہ قدم جو وہ ہاتھ ملتے ہیں
yahaan charaagh kab ahl-e-vafaa ke jalte hain
بجتے ہیں سر جو دل میں بتا ماجرا ہے کیا تجھ سے کسی نے کان میں کچھ کہہ دیا ہے کیا ہمدم بھی ہم خیال بھی تو ہم سفر بھی ہے اب مجھ میں تجھ میں فرق کوئی رہ گیا ہے کیا جیتے ہیں زندگی کو مگر جانتے نہیں راز حیات کیا ہے بقا کیا فنا ہے کیا ہر ذرہ کائنات کا تعلیم گاہ ہے کردار کہہ رہے ہیں کہ کس نے پڑھا ہے کیا جھک جائے گی ہر ایک جبیں اس زمین پر معلوم ہو جو ان کو کہ آخر خدا ہے کیا پابند حق تھے عالم ارواح میں سبھی اب یاد بھی نہیں ہے کہ عہد وفا ہے کیا
bajte hain sar jo dil mein bataa maajraa hai kyaa
خیالوں میں ترا آنا کوئی آنا نہیں پھر بھی ہوا جاتا ہے موسم میرے اندر کا حسیں پھر بھی مرا دل ہے کہ جنگل میں کوئی بھٹکا ہوا جوگی اسے میں روکتا تو ہوں وہ جاتا ہے کہیں پھر بھی تری پرواز ہو کتنی ہی اونچی آسمانوں میں سکوں کے واسطے تو چاہیئے دو گز زمیں پھر بھی اسے مجھ پر یقیں کیوں ہے مرے اندر کمی کیوں ہے میں اس کو چھوڑ آیا ہوں کھڑا ہے وہ وہیں پھر بھی فلک پر جو نہیں ٹکتے وہ تارے ٹوٹ جاتے ہیں خرابہ ان ستاروں کا اٹھاتی ہے زمیں پھر بھی مرے ہاتھوں سے دامن کھینچنے والے تو کیا جانے چرا لی ہے ترے دامن سے مشت عنبریں پھر بھی
khayaalon mein tiraa aanaa koi aanaa nahin phir bhi
کیسے کھینچے گا کوئی خاکہ بھلا تصویر کا نور ہے بس نور ہے اس پیکر دلگیر کا اپنی آنکھوں پر بھروسہ اس قدر اچھا نہیں قوت بینائی کیا ہے کھیل ہے تنویر کا وقت کی دیمک کا شر ہے یا ہماری غفلتیں نقش مٹتا جا رہا ہے جا بجا تحریر کا یہ فقط فولاد کب ہے حوصلے ہیں دستگیر جنگ میں سکہ جما ہے یوں مری شمشیر کا رنگ لاتی ہیں ہمہ تن کوششیں اس دہر میں ان سے رشتہ ہے یقیناً حاکم تقدیر کا ہو گئے میٹھے سبھی اب زہر بھی تریاق بھی ذائقوں سے کچھ پتہ چلتا نہیں تاثیر کا جہد آزادی جو ہو جائے تری آتش فشاں موم ہو جائے گا ہر حلقہ تری زنجیر کا
kaise khinchegaa koi khaaka bhalaa tasvir kaa
کب تک یہ ستاروں کا گگن خواب رہے گا اب طاق میں گھر کے مرے مہتاب رہے گا جب تک ہے نشاں میرا نشانی بھی رہے گی گنبد یہی ہوگا یہی محراب رہے گا اے تشنہ لبی تو کبھی مایوس نہ ہونا دریا کہیں گہرا کہیں پایاب رہے گا مت سوز تمنا کو بجھا ساز ہے ہستی یہ جوش جنوں ہی ترا مضراب رہے گا دریا میں تلاطم ہے تو پھر چیر دے دریا گرداب کوئی پھر نہ سر آب رہے گا جب تک نہ کھلیں گے یہاں گل مہر وفا کے ہر ذرہ زمیں کا یوںہی بیتاب رہے گا
kab tak ye sitaaron kaa gagan khvaab rahegaa
خدا کرے کہ نیا سال خوش خرام آئے لیے خوشی کا محبت کا یہ پیام آئے بجھا دے پیاس جو رندان عشق کی یکسر محبتوں کا چھلکتا ہوا وہ جام آئے ہوئیں ہماری قبائیں لہو لہو جس جا اسی گلی سے ہمارے لیے سلام آئے وفا کے پھول کھلیں خار دار شاخوں پر کسی کے لب پہ نہ جور و جفا کا نام آئے بدل بھی سکتی ہے شعلہ زبان گفت و شنید نیا ہے سال تو شاید نیا کلام آئے بدل رہی ہے جو تاریخ آدم و حوا تو انقلاب دعا ہے کہ تیز گام آئے یہ دھوپ چھاؤں کا موسم بہت ہوا یارب بہار آئے جو گلشن میں وہ دوام آئے
khudaa kare ki nayaa saal khush-khiraam aae





