Naushaba Khatoon
حال کیا پوچھتے ہو سوختہ سامانی کا داغ سرمایہ ہوا زندگیٔ فانی کا غرق دریائے ندامت ہوا طومار جرم یہ تو ادنیٰ سا کرشمہ ہے پشیمانی کا بعد مردن جو عناصر مرے بکھرے یا رب عقدہ حل ہو گیا ہستی کی پریشانی کا سنگ در بعض نے سنگ در مقصد سمجھا یہ صلہ ہم کو ملا آپ کی دربانی کا دیکھ کر میری پریشانیٔ تحریر کہا یہ مرقع ہے یقیناً کسی دیوانی کا
haal kyaa puchhte ho sokhta-saamaani kaa