SHAWORDS
Naushaba Nargis

Naushaba Nargis

Naushaba Nargis

Naushaba Nargis

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

dard ki divaar sar tak aa gai

درد کی دیوار سر تک آ گئی دل کی بینائی نظر تک آ گئی ریت پر نقش قدم کو ڈھونڈھتی زندگی شام و سحر تک آ گئی روشنی کا رنگ پھیکا پڑ گیا تیرگی دیوار و در تک آ گئی صبح چمکی یا کوئی تارا گرا چاندنی سی میرے گھر تک آ گئی اور ہوں گے جن کو منزل مل گئی جستجو ترک سفر تک آ گئی بند دروازے پہ کھٹکا سا ہوا بات اتنی سی خبر تک آ گئی رات کے پچھلے پہر یادوں کی دھوپ دھیان کے بوڑھے شجر تک آ گئی اس کا نام آیا تو کلیاں کھل اٹھیں بات پھر شمس و قمر تک آ گئی

غزل · Ghazal

aks paani mein jal gae kitne

عکس پانی میں جل گئے کتنے جگنوؤں سے بہل گئے کتنے کہکشاں مانگ میں سنورنے لگی رنگ کاجل میں ڈھل گئے کتنے آئے سب راستے مرے گھر تک آسماں تک نکل گئے کتنے بات پھیلی شفق کناروں تک چاند تارے اجل گئے کتنے دھیان کا در کھلا تو یادوں کے دیپ آنکھوں میں جل گئے کتنے ہوتے ہوتے یہ طور عام ہوا گرتے گرتے سنبھل گئے کتنے وہ بھی خوابوں کے ہم سفر ٹھہرے قافلے رخ بدل گئے کتنے کوئی حرف دعا ہوا بھی نہیں حادثے جاں سے ٹل گئے کتنے

غزل · Ghazal

saamaan-e-zauq-o-shauq sameTo safar karo

سامان ذوق و شوق سمیٹو سفر کرو رہنا ضرور ہے تو کسی دل میں گھر کرو خود آشنا نہیں تو مکمل نہیں حیات دل کو اسیر حلقۂ اہل نظر کرو آراستہ لہو سے بھی ہوتا ہے قصر دل کچھ اور بھی حسین یہ دیوار و در کرو ابھرے گا ظلمتوں سے نئے دن کا آفتاب تاریکیوں کے خوف کو نذر شرر کرو پہلے خزاں کے چاک گریباں کو دیکھ لو پھر دامن بہار کی جانب نظر کرو

غزل · Ghazal

yuun zabt-e-musalsal kaa sila kyuun nahin dete

یوں ضبط‌ مسلسل کا صلہ کیوں نہیں دیتے ہر نقش تمنا ہی مٹا کیوں نہیں دیتے منزل پہ بھی آسودۂ منزل نہ ہوا دل پھر ہم کو بھٹکنے کی دعا کیوں نہیں دیتے رہ رہ کے سلگتے ہیں خیالوں میں نئے غم یادوں کے سمن زار جلا کیوں نہیں دیتے اس سے تو حکایات جنوں اور بڑھیں گی چپ کیوں ہو کوئی بات بنا کیوں نہیں دیتے دل ہے تو کہیں نذر کرو کام تو آئے سر ہے تو کسی در پہ جھکا کیوں نہیں دیتے آئین کرم بھول گئے اہل نظر بھی ماحول کو آئنہ دکھا کیوں نہیں دیتے ملتا ہے پتہ جن کو ترے نام سے اپنا وہ لوگ ہمیں تیرا پتہ کیوں نہیں دیتے کیسے میں پکاروں کہ بہت دور ہوں تم سے تم دل کے قریں ہو تو صدا کیوں نہیں دیتے

غزل · Ghazal

dil ke be-tartib viraane ko ghar us ne kiyaa

دل کے بے ترتیب ویرانے کو گھر اس نے کیا پھر نظام زندگی زیر و زبر اس نے کیا آس کے روشن دیے رکھ کر فصیل شام پر رات کے اندھے سفر کو بے خطر اس نے کیا ایک اس کے دم سے ہر موسم ہوا رشک بہار ایک شاخ آرزو کو بے ثمر اس نے کیا ان کہے لفظوں کو بخشا اک نیا طرز کلام ان بہے اشکوں کو پھر لعل و گہر اس نے کیا بے قراری تھی جسے سننے سنانے کے لئے حرف شوق بے کراں کو مختصر اس نے کیا خواب میں ملنا تو گویا روز کا معمول تھا اس انوکھے کھیل کو یوں معتبر اس نے کیا عمر بھر جس کو نگاہیں ڈھونڈھتی پھرتی رہیں عمر بھر میرے خیالوں میں بسر اس نے کیا کر رہا تھا وہ بھی تارے توڑ کر لانے کی بات بے سبب لمحوں کا جادو بے اثر اس نے کیا کہکشاں پھرتی رہی گلیوں میں کس کو ڈھونڈھتی لوگ کہتے ہیں مرے گھر تک سفر اس نے کیا

Similar Poets