
Nawaz Qamar
Nawaz Qamar
Nawaz Qamar
Ghazalغزل
بات کہنی تھی کہہ چکے صاحب دل کی باتوں میں آ گئے صاحب وہ جو کہتے تھے ہم سفر خود کو شام ہوتے ہی چل دیے صاحب اب کسی کو کہاں میسر ہم جس کے ہونے تھے ہو چکے صاحب ایک پل میں ہزار صدیاں ہیں کیسے کاٹے یہ رت جگے صاحب زندگی چار دن کی تھی اور ہم چار دن کب کے جی لیے صاحب میرے تاریک راستے پر آج رکھ گیا کون یہ دیے صاحب اس نے نظر کرم اٹھائی اور ہم تو فرہاد ہو لئے صاحب آپ اچھوں کے ساتھ رہئے ہم اب برے ہیں تو ہیں برے صاحب راہ الفت سے نابلد تھے ہم کہہ دیا چل تو چل پڑے صاحب
baat kahni thi kah chuke saahib
ایسے نہ لیجئے گا مرا نام صاحبا لگنے لگیں گے آپ پہ الزام صاحبا لہرائیے نا زلف کہ آ جائے بارشیں مٹی کے ہیں ہمارے در و بام صاحبا وہ خوش نصیب ہیں کہ جنہیں آپ مل گئے بد بختی جڑ گئی ہے مرے نام صاحبا باقی ہیں چند سانس بہت جلد آپ کو شاید کہ مل ہی جائے گا پیغام صاحبا شاید سحر کے آنے میں اب مدتیں لگیں بیٹھی ہے پر سمیٹ کے اک شام صاحبا
aise na lijiyegaa miraa naam saahibaa
چند خوابوں کی پرچھائیاں اور میں پر سمیٹے ہیں رسوائیاں اور میں تینوں اک دوجے کے ہیں بڑے خیر خواہ یعنی یہ ہجر تنہائیاں اور میں بھیگا آنچل نظر آئے تو آپ کو یاد کرتی ہیں پروائیاں اور میں آج بھی میرے خوابوں کے البم میں ہے تیری الھڑ سی انگڑائیاں اور میں کھوجتی ہیں سکوں اب تو چاروں پہر سوگ آنکھیں یہ چرپائیاں اور میں تیری حسرت میں روتے ہوئے ہی ملے میرے لفظوں کی شہنائیاں اور میں آج پھر رات بھر بات کرتے رہے سہمی سہمی سی پرچھائیاں اور میں
chand khvaabon ki parchhaaiyaan aur main
کسی بھی شے نہ کسی بد اثر کا سایا ہے ہمارے دل پہ کسی کی نظر کا سایا ہے کچھ اس لئے بھی نہیں ختم ہو رہا ہے سفر ہمارے سر پہ کسی رہ گزر کا سایا ہے کسی کے ہاتھ میں ٹہنی نہیں بچی ہے اور کسی کے ساتھ میں پورے شجر کا سایا ہے طبیب چھوڑ دے تجھ سے نہ مندمل ہوں گے ہمارے زخموں پہ اس چارہ گر کا سایا ہے میں مانتا ہوں کہ ممکن ہے بھول جانا بھی مگر یہ سایا میاں عمر بھر کا سایا ہے
kisi bhi shai na kisi bad-asar kaa saayaa hai
ٹوٹنا یار خواب آنکھوں کا ہے مکمل عذاب آنکھو کا کتنے منظر سمیٹ سکتا ہے اک ٹپکتا سا آب آنکھوں کا مل گئی اس کی دید آنکھوں کو پا لیا ہے ثواب آنکھوں کا اک چنبیلی تو میرے دل کی ہے اور ہے اک گلاب آنکھوں کا دل کی باتیں تو لب سے کہہ دی ہیں دیجیے اب حساب آنکھوں کا کتنے بیمار حال اچھے ہوں اٹھ جو جائے نقاب آنکھوں کا موند لی آج ہم نے یہ آنکھیں کر کے سارا حساب آنکھوں کا ان سے بس خواب ہی بنیں گے اور کیا بنے گا جناب آنکھوں کا
TuTnaa yaar khvaab aankhon kaa
کتنا دل کش نظر آتا ہے یہ منظر دیکھو دوڑے آتے ہیں بیابان میں لشکر دیکھو تم کو دکھتا ہے فقط میرا تبسم جاناں حال کیا ہے یہ کبھی جھانک کے اندر دیکھو زخم دیتا ہے تو کرتا ہے پذیرائی بھی کتنا معصوم سراپا ہے ستم گر دیکھو ایک مدت سے رہا کرتے ہیں ان آنکھوں میں مطمئن ہو تو کبھی دل میں اتر کر دیکھو تم میاں ڈھونڈتے پھرتے ہو سکوں دنیا میں اک دفعہ یار تو سجدے میں بھی گر کر دیکھو
kitnaa dilkash nazar aataa hai ye manzar dekho





