SHAWORDS
Nawev Kiyani

Nawev Kiyani

Nawev Kiyani

Nawev Kiyani

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ہمیشہ مضطرب موجوں کو رکھا ہے سمندر نے سفر کا استعارہ بن کے رہنا ہے سمندر نے مری خوشیوں کے مول اس نے خریدا ہے نشہ اپنا مرے ہر چاند کو خود میں ڈبویا ہے سمندر نے عجب طوفان غراں ہے بپا ہر فرد خانہ میں اسی دالان سے جیسے گزرنا ہے سمندر نے یہ مشت خاک نے پوچھا ہے اکثر موج میں آ کر کوئی طوفان مجھ جیسا بھی دیکھا ہے سمندر نے میں اپنے آپ سے بچ کر کہیں بھی جا نہیں سکتا مجھے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے سمندر نے کوئی باہر نکلتا ہی نہیں اپنے جزیرے سے اسی باعث تو اتنا سر اٹھایا ہے سمندر نے کسی کا نام چھیدے جا رہا ہوں کس بھروسے پر مرا ریگ بدن جب نوچ لینا ہے سمندر نے

hamesha muztarib maujon ko rakkhaa hai samundar ne

غزل · Ghazal

دل درد آشنا رکھے ہوئے ہیں بدن میں کربلا رکھے ہوئے ہیں کسی کے رنگ میں ڈھلتے نہیں ہیں ہم اپنی کیمیا رکھے ہوئے ہیں ہمیں تفہیم دنیا کے معمے خلا اندر خلا رکھے ہوئے ہیں کوئی منزل نہیں منزل ہماری اک آتش زیر پا رکھے ہوئے ہیں لڑائی ظلمت شب سے ہے جاری سر بام اک دیا رکھے ہوئے ہیں ہمارے سامنے ہیں پر وہ یوں ہیں نہ ہونے کی ادا رکھے ہوئے ہیں جو موسم پہن کر آئے ہیں سورج وہ دامن میں گھٹا رکھے ہوئے ہیں دلیل خامشی کام آ رہی ہے کسی کو بے نوا رکھے ہوئے ہیں

dil-e-dard-aashnaa rakkhe hue hain

غزل · Ghazal

وہ جستجو کا جدا ہی ہنر نکالتے ہیں تھکان سے نیا ذوق سفر نکالتے ہیں ہم اپنی چھاؤں بدن میں ہی دفن رکھتے نہیں کہ شاملات زمیں سے شجر نکالتے ہیں کہیں یہ نسل زمیں بوس ہی نہ ہو جائے نمو کے خواب کو بار دگر نکالتے ہیں کہاں تلک کوئی خود میں سمٹ کے بیٹھا رہے گلی میں آتے ہیں خوف نظر نکالتے ہیں نہ کھولنی پڑیں دانتوں سے رشتوں کی گرہیں چلو کہ اپنے لہو سے بھنور نکالتے ہیں محبتیں کہاں پنپیں گی سنگ و آہن میں کسی گلاب کی ٹہنی پہ گھر نکالتے ہیں رتوں کے جبر نے جھلسا کے رکھ دیا تھا جہاں شگوفے پھر اسی ٹہنی سے سر نکالتے ہیں بھرے بھرے نہ بھرے ساعتوں کے دامن کو نہال عمر سے سارا ثمر نکالتے ہیں عجیب زہر سا گھل جاتا ہے فضاؤں میں ہمارے خواب جہاں بال و پر نکالتے ہیں

vo justuju kaa judaa hi hunar nikaalte hain

غزل · Ghazal

کسی کی آرزوئیں اب بھی ہم میں رقص کرتی ہیں سنہری مچھلیاں اکویریم میں رقص کرتی ہیں کوئی طوفاں دبا پاتا نہیں دل کی صداؤں کو یہ جل پریاں تو آب یم بہ یم میں رقص کرتی ہیں ہماری الفتوں کو آپ نے ہلکا نہیں لینا بہ رنگ ہست بھی خواب عدم میں رقص کرتی ہیں یہ پیغامات پہنچاتی ہیں تم تک میرے مولا کے اگر چڑیاں تمہارے آشرم میں رقص کرتی ہیں میں ان پر چل کے بھی کیوں منزلوں کا ہو نہیں پایا جو راہیں زندگی کے پیچ و خم میں رقص کرتی ہیں تری یادیں تو جیسے بن گئی ہیں دھڑکنیں پیارے یہ رقاصائیں بھی دل کے حرم میں رقص کرتی ہیں نیام مصلحت میں رہ کے جن کو زنگ لگتا ہے وہی تلواریں لہراتے علم میں رقص کرتی ہیں امیدیں سینۂ خنجر پہ چل کر بھی نہیں رکتیں یہ حسرت بن کے بھی جیسے ارم میں رقص کرتی ہیں تمہارے ہجر کی غزلیں تمہارے وصل کی نظمیں دلوں میں تھرتھراتی ہیں قلم میں رقص کرتی ہیں

kisi ki aarzuein ab bhi ham mein raqs karti hain

غزل · Ghazal

یہ جو میں ہوں کوئی دھوکہ ہی سہی یوں ہی سہی جسم کی قبر کا کتبہ ہی سہی یوں ہی سہی خاک پڑتی رہی کتنے ہی زمانوں کی مگر زخم دل آج بھی تازہ ہی سہی یوں ہی سہی در و دیوار سے لپٹا ہوا یہ سناٹا شور کرتا ہوا قصہ ہی سہی یوں ہی سہی آخر کار مجھے راکھ تو ہو جانا ہے ایک پل کے لئے شعلہ ہی سہی یوں ہی سہی غم دنیا بھی مرے دل کے سمندر میں گرا آج کچھ درد زیادہ ہی سہی یوں ہی سہی کم سے کم اس سے ملاقات تو ہو جاتی ہے خواب حجرے کا دریچہ ہی سہی یوں ہی سہی اس کی چھاؤں تلے پرکھوں کے زمانے گزرے ہر شجر صورت شجرہ ہی سہی یوں ہی سہی یاد آتا ہے کوئی ترک تعلق پر بھی اور یہ بات ہمیشہ ہی سہی یوں ہی سہی مطمئن ہوں کہ کوئی تو مرا نگراں ہے ظفرؔ میرے پیچھے مرا سایہ ہی سہی یوں ہی سہی

ye jo main huun koi dhoka hi sahi yunhi sahi

غزل · Ghazal

یوں نہ خود میں چپ سی بھر لو مرا فون تو اٹھاؤ جو گلہ ہے مجھ سے کر لو مرا فون تو اٹھاؤ جو غبار سا ہے دل میں وہ نکالنا ہی بہتر بھلے مجھ پہ تم بپھر لو مرا فون تو اٹھاؤ مجھے اپنا حال کہہ دو کہ کروں میں غم غلط کچھ مرے درد کی خبر لو مرا فون تو اٹھاؤ یوں الگ تھلگ رہو گی تو بڑھے گی اور الجھن نہ لہو میں یوں بھنور لو مرا فون تو اٹھاؤ مری زندگی سے چاہو ہو اگر اڑان بھرنا مرے سارے بال و پر لو مرا فون تو اٹھاؤ یہ حقیقتوں کے دلدل کہیں کھا نہ جائیں تم کو مرے خواب سے گزر لو مرا فون تو اٹھاؤ یہ جو دھوپ ہجر کی ہے ہمیں رکھ نہ دے جلا کر کوئی سایۂ شجر لو مرا فون تو اٹھاؤ میں بچھا کے آ رہا ہوں سر رہ گزار یہ دل تم اسی پہ پاؤں دھر لو مرا فون تو اٹھاؤ یوں ہی ریشمی سے جیون پہ سمے کا بار کیوں ہو مرا رنگ بارور لو مرا فون تو اٹھاؤ

yuun na khud mein chup si bhar lo miraa phone to uThaao

Similar Poets