
Nayan H. Desai
Nayan H. Desai
Nayan H. Desai
Ghazalغزل
lahrein bichhaD gaiin miri nadiyaan bichhaD gaiin
لہریں بچھڑ گئیں مری ندیاں بچھڑ گئیں تم سے بچھڑ کے لگتا ہے صدیاں بچھڑ گئیں بوڑھے شجر سے روٹھ گئیں شاخ پتیاں آنگن سے دھوپ چھاؤں کی خوشیاں بچھڑ گئیں شبنم کے دل سے آگ کے دریا ابل پڑے گلشن سے جب بہار میں کلیاں بچھڑ گئیں میں فیصلوں میں بٹ گیا آیا جو شہر میں کتنی بھلی تھی گاؤں کی گلیاں بچھڑ گئیں
main ne mehnat ki dhuup jheli thi
میں نے محنت کی دھوپ جھیلی تھی پھر بھی خالی مری ہتھیلی تھی اس نے سائے سے کھیلنا سیکھا شام جس کے لئے پہیلی تھی سونا کر کے چلی گئی دلہن میرا آنگن وہ جس میں کھیلی تھی
mujh ko tere shahr kaa har shakhs sharminda mile
مجھ کو تیرے شہر کا ہر شخص شرمندہ ملے خوف کی آغوش میں ہر ایک باشندہ ملے خانۂ تصویر میں بیٹھا ہوں اس امید پر شاید ان تصویروں میں چہرہ کوئی زندہ ملے ملتے ہیں زخموں کے چارہ گر ہزاروں اے نینؔ درد کو جو دے زباں ایسا نمائندہ ملے
be-chaara apni baat manaane mein thak gayaa
بے چارہ اپنی بات منانے میں تھک گیا اس بے گناہ پر ہی زمانے کو شک گیا سورج ڈھلا تو شام کو سایوں سے ڈھک گیا کھڑکی کا سونا پن مری تنہائی تک گیا وہ سوکھی پتیاں تھیں مگر تھیں گلاب کی ہاتھوں میں آ گئیں تو مرا گھر مہک گیا نیچے بنا رہے تھے پرندے کچھ آشیاں اتنے میں اس پہاڑ سے پتھر لڑھک گیا
aankh se ho ke ashk tak jaaein
آنکھ سے ہو کے اشک تک جائیں غم نے سوچا چلو بہک جائیں دوڑنے کو تو سب ہی دوڑ پڑے اور یہ ڈر بھی تھا نہ تھک جائیں صبح ہوتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں کاش یہ خواب رات تک جائیں ان ہواؤں میں یاد ہے ان کی ان کو چھو کر چلو مہک جائیں
chand saalon mein kyaa maajraa ho gayaa
چند سالوں میں کیا ماجرا ہو گیا کل جو کھوٹا تھا اب وہ کھرا ہو گیا پیڑ کٹنے پہ پنچھی تو سب اڑ گئے صرف سایہ ہی بے آسرا ہو گیا پڑ گیا زرد پتا مرے چھونے سے تم نے مسلا اسے اور ہرا ہو گیا جنگ چھیڑی گئی بے سبب دوستو اس پہ لمبا سا اک تبصرہ ہو گیا





