Nayyar Aasmi
Nayyar Aasmi
Nayyar Aasmi
Ghazalغزل
آنکھوں سے برستے اشکوں کی برسات پہ رونا آتا ہے نادانیٔ الفت کر بیٹھے اس بات پہ رونا آتا ہے ہر سانس ہے اک تلوار بنی ہر نفس ہے غم کا پیمانہ کرتے ہیں محبت جو ان کو کانٹوں پہ بھی سونا آتا ہے اب دل کو ہے سمجھانا مشکل جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا کیا بات بنے گی ہنسنے سے ہنستے ہیں تو رونا آتا ہے بخشے ہیں تو نے لاکھ ستم غم مجھ کو دیئے ہیں تیرا کرم ہم کو بھی غموں کے تیروں کو سینے میں چبھونا آتا ہے بہتے ہوئے اشکو رک جاؤ ارمان کے دھارو تھم جاؤ دیکھو تو تصور میں میرے ساجن وہ سلونا آتا ہے
aankhon se baraste ashkon ki barsaat pe ronaa aataa hai
نہ نوازشوں کی ہے آرزو نہ تری جفا کا ملال ہے تو نظر سے اپنی گرا نہ دے یہی ایک دل میں خیال ہے تجھے جان مہر و وفا کہیں تجھے عکس شان خدا کہیں تجھے کیا سے کیا ہے بنا دیا یہ مری نظر کا کمال ہے ہے اسی سے روح میں تازگی یہی قلب و جاں کی ہے روشنی تو خدا را ترک ستم نہ کر مری زندگی کا سوال ہے تری راہ میں تری چاہ میں یہ مقام کون سا آ گیا کہ خوشی کی مجھ کو خوشی نہیں نہ ملال ہی کا ملال ہے وہ نظر کسی کی جھکی جھکی وہ ہنسی کسی کی رکی رکی کسے پاس ضبط کا ہوش ہے کسے گفتگو کی مجال ہے کبھی روتے روتے ہنسا دیا کبھی ہنستے ہنستے رلا دیا تری یاد ہی سے ہے ہر خوشی ترے ذکر ہی سے ملال ہے
na navaazishon ki hai aarzu na tiri jafaa kaa malaal hai





