
Nayyar Damohi
Nayyar Damohi
Nayyar Damohi
Ghazalغزل
kise apnaa kahein ham kaun hai aakhir yahaan apnaa
کسے اپنا کہیں ہم کون ہے آخر یہاں اپنا نہ اہل کارواں اپنے نہ میر کارواں اپنا سنائیں گے اسی کو قصۂ درد نہاں اپنا وہی ہے مہرباں اپنا وہی ہے رازداں اپنا نہ اب لٹنے کا اندیشہ نہ کچھ پرواہ منزل کی کہ ہم تیرے حوالے کر چکے ہیں کارواں اپنا بہار جاوداں اس سر زمیں کا طوف کرتی ہے ترے دیوانے ڈیرا ڈال دیتے ہیں جہاں اپنا تمنا ہے تمہارے پاؤں کے نیچے رہوں ہر دم بنا لو تم کبھی مجھ کو بھی سنگ آستاں اپنا ہم اپنی جان دے دیں گے گلستاں کو نہ چھوڑیں گے ہمیں تو جان سے پیارا ہے نیرؔ گلستاں اپنا
jin se ummid-e-karam thi vo sitamgar nikle
جن سے امید کرم تھی وہ ستم گر نکلے ہم جنہیں پھول سمجھتے تھے وہ پتھر نکلے غم کے پردے میں نہاں خوشیوں کے منظر نکلے اس اندھیرے میں اجالوں کے سمندر نکلے چل رہی ہے یہاں ہر سمت بلا کی آندھی خیر اس میں ہے کوئی گھر سے نہ باہر نکلے میری اچھائی چھپا لی مرے ہمدردوں نے میری رسوائی بڑی دھوم سے لے کر نکلے کتنے ارمان سے دامن پہ سجایا تھا انہیں ہائے یہ پھول تو کانٹے سے بھی بد تر نکلے میں نے جن ہاتھوں کو مضبوط کیا تھا نیرؔ آج ان ہاتھوں سے میرے لئے خنجر نکلے
jaan kuchh der ki mehmaan hai bimaar ke paas
جاں کچھ دیر کی مہمان ہے بیمار کے پاس اب تو آ جائیے گرتی ہوئی دیوار کے پاس دل تو ہم پہلی ملاقات میں دے بیٹھے تھے جان باقی تھی سو لے آئے ہیں سرکار کے پاس آج پھر عشق تمنائی ہے قربانی کا کون منصور ہے آئے تو ذرا دار کے پاس نور رحمت تری قسمت میں کہاں اے زاہد تجھ کو یہ نور ملے گا تو گنہ گار کے پاس اک نئی روح مچل اٹھی مری رگ رگ میں آپ کیا آئے کہ جان آ گئی بیمار کے پاس گو در یار سے میں دور سہی اے نیرؔ دل مگر رہتا ہے ہر وقت در یار کے پاس
abhi na kijiye zahmat naqaab uThaane ki
ابھی نہ کیجئے زحمت نقاب اٹھانے کی نظر میں تاب نہیں ہے نظر ملانے کی ہمارے ہاتھ میں بس اک تمہارا دامن ہے تمہارے ہاتھ میں تقدیر ہے زمانے کی ہمارے پہلے تمہیں کون سر جھکاتا تھا ہمیں نے رسم نکالی ہے سر جھکانے کی ہجوم برق بھی آ کر قریب لوٹ گئی کمال کر گئی تقدیر آشیانے کی چمن میں اپنے نشیمن کی زندگی کتنی رکھی ہے برق پہ بنیاد آشیانے کی نگاہ ناز وہاں آسرا دیا تو نے جہاں امید تھی کشتی کے ڈوب جانے کی چمک ہی جاؤ گے دنیا میں ایک دن نیرؔ غلامی کرتے رہو ان کے آستانے کی
jald kar de gham-e-furqat ke havaale mujh ko
جلد کر دے غم فرقت کے حوالے مجھ کو تیرے ملنے کی خوشی مار نہ ڈالے مجھ کو ظلم کے نام پہ جھکنا نہیں شیوہ میرا پیار کے نام پہ کوئی بھی جھکا لے مجھ کو میں کسی کی نگہ ناز کا دیوانہ ہوں کیا لبھائیں گے چھلکتے ہوئے پیالے مجھ کو اب شب غم کے اندھیروں کا نہیں خوف کوئی مل گئے ہیں تری یادوں کے اجالے مجھ کو تجھ کو بھی کر نہ دے برباد مری بربادی سوچ لے اتنا ذرا لوٹنے والے مجھ کو میں وہ پروانہ ہوں جس سمت چلا جاتا ہوں گھیر لیتے ہیں وہیں آ کے اجالے مجھ کو میں تو تلوار کے سائے میں پڑا ہوں نیرؔ کیا ڈرائیں گے بھلا برچھی و بھالے مجھ کو
dekhne vaalon kaa anjaam tumhein kyaa maalum
دیکھنے والوں کا انجام تمہیں کیا معلوم آ گئے تم تو لب بام تمہیں کیا معلوم تم ہمیں بزم میں بے ساختہ دیکھا نہ کرو لوگ کر ڈالیں گے بدنام تمہیں کیا معلوم ہم پہ گزری جو رہ عشق میں ہم جان چکے ٹھوکریں کھائیں ہیں ہر گام تمہیں کیا معلوم زلف بکھرا کے بھری بزم میں تم آ تو گئے کیا غضب ڈھائے گی یہ شام تمہیں کیا معلوم اپنی ان مد بھری آنکھوں کو جھکاؤ نہ ابھی کتنے خالی ہیں ابھی جام تمہیں کیا معلوم ہم تو قصداً ہوئے مائل مے رسوائی پر ہم نے کیوں پی لیا یہ جام تمہیں کیا معلوم شاعری پر تمہیں نیرؔ کی تعجب کیوں ہے اس پہ ہوتا ہے جو الہام تمہیں کیا معلوم





