SHAWORDS
Nayyar Rani Shafaq

Nayyar Rani Shafaq

Nayyar Rani Shafaq

Nayyar Rani Shafaq

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہجر کی اندھی بہری راتیں تن من پیاسا بھیگی راتیں چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں مجھ سے خوب لپٹ کر روئیں سونی شام اندھیری راتیں صندل باتیں خوشبو لہجہ کہاں گئیں وہ مہکی راتیں ہم تم جھیل کنارے جاگے گاؤں کی شب اور شہری راتیں تارا تارا بکھر گئی تھیں وصل میں ڈوبی چاندنی راتیں بن کے پاگل پروا ڈھونڈوں لہریں ساحل بھیگی راتیں جنوری فروری اور دسمبر ٹھنڈ میں جاگی ٹھٹھری راتیں شفقؔ کے سوچ نگر میں ٹھہریں دھند میں لپٹی کیسی راتیں

hijr ki andhi bahri raatein

غزل · Ghazal

خفی لفظوں سے لکھی درد کی تحریر ہوتی ہے یہ عورت ہر طرح سے مرد کی جاگیر ہوتی ہے وہ جس کی آنکھ میں محرومیاں بستی ہیں صدیوں سے وہ خود کتنے ہی رشتوں کی مگر زنجیر ہوتی ہے جکڑ رکھا ہے جس کے دل کو ان دیکھے عذابوں نے وہ ہر اک خواب کی کیسی حسیں تعبیر ہوتی ہے جنون عشق کی سرحد پہ جاں سے جو گزر جائے وہی سسی وہی سوہنی وہی تو ہیر ہوتی ہے نکل کر خلد سے بھی تو زمیں کوئی نہیں اس کی زمیں زادی کی بھی دیکھو عجب تقدیر ہوتی ہے نہ ہو جب چاند آنچل میں نہ سورج دل کی بستی کا تن مردہ سنبھالے وہ بڑی دلگیر ہوتی ہے جو دن بھر جنگ لڑتی ہے مصائب اور مسائل سے شفقؔ پھر شام کو ہے رنگ سی تصویر ہوتی ہے

khafi lafzon se likkhi dard ki tahrir hoti hai

غزل · Ghazal

مری خستگی کو جمال دے مری بندگی کو کمال دے مرے دل کو نور میں ڈھال کر مرے فکر و فن کو اجال دے تو عروج دے مرے صبر کو مری خواہشوں کو زوال دے جو نکھار دے مری روح کو مرے دل کو ایسا ملال دے کوئی چاند بخش کے رات کو مری ہر سیاہی کو ٹال دے مری چشم گریہ کو حسن بخش دل ریزہ ریزہ سنبھال دے مجھے دائمی ہو شفقؔ عطا یہ مرض بدن سے نکال دے

miri khastagi ko jamaal de

غزل · Ghazal

دل بھی تنہا رہتا ہے اور مری طلب تنہا آنسوؤں کے میلے میں رہتی ہوں میں اب تنہا خلوتوں کو ہے میری کس قدر حسیں نسبت میں زمیں پہ تنہا ہوں عرش پر ہے رب تنہا اک شجر تھا صحرا میں دھوپ تھی کڑی جس پر ڈھل گیا تھا سایہ بھی رہ گیا وہ جب تنہا کیا تجھے خبر بھی ہے ہجر کی حویلی میں رات بھر تڑپتا ہے کوئی تشنہ لب تنہا تتلی چڑیا پروانے چاند سورج اور جگنو اپنی اپنی دنیا میں پھر رہے ہیں سب تنہا زندگی سے بڑھ کر تھی قیمتی جو شب میری چشم تر میں ڈوبی سی کٹ گئی وہ شب تنہا دیر ہو یا کعبہ ہو کس کی جستجو میں یہ پھر رہا ہے صدیوں سے عشق کا نسب تنہا یاد کے جھروکوں سے اک صدا سی آتی ہے عمر کے کٹھن لمحے کٹتے ہیں یہ کب تنہا کچھ عجب سوالوں میں جانے کن خیالوں میں کوئی روتا رہتا ہے یوں ہی بے سبب تنہا سچ کو چھوڑنے والے فکر کیوں نہیں کرتے جل رہا ہے دوزخ میں کب سے بو لہب تنہا تب ہوا اجاگر یہ فکر و فن شفق میرا قبر کے اندھیروں میں رہ گئی میں جب تنہا

dil bhi tanhaa rahtaa hai aur miri talab tanhaa

Similar Poets