SHAWORDS
Naz Khialvi

Naz Khialvi

Naz Khialvi

Naz Khialvi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

پھولنے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی تنگ ہو جائے گی دھرتی مفلسوں پر اور بھی یہ زمیں زرخیز ہوگی خون پی کر اور بھی کھیتیاں اگلا کریں گی لعل و گوہر اور بھی ہر زمانے میں ثبوت عشق مانگا جائے گا لال ماؤں کے چڑھیں گے سولیوں پر اور بھی پھولتے پھلتے ہیں جذبے درد کے ماحول میں زخم کھائیں تو نکھرتے ہیں سخن ور اور بھی آفتاب ابھرا ہے جس دن سے نئی تہذیب کا ہو گیا تاریک انساں کا مقدر اور بھی جب چلی تحریک تعمیر وطن کی دوستو ہو گئے برباد کچھ بستے ہوئے گھر اور بھی جس قدر باہر کی رونق میں مگن ہوتا گیا بڑھ گئی بے رونقی انساں کے اندر اور بھی میں بناتا جا رہا ہوں اور بھی کچھ آئنہ وقت برساتا چلا جاتا ہے پتھر اور بھی بستیوں پر حادثوں کی چاند ماری کے لئے بڑھ رہے ہیں اوج کی جانب ستم گر اور بھی منفرد استاد دانشؔ بھی ہیں غالب کی طرح یوں تو دنیا میں ہیں نازؔ اچھے سخن ور اور بھی

phulne-phalne lage hain saahab-e-zar aur bhi

غزل · Ghazal

بہت عرصہ گنہ گاروں میں پیغمبر نہیں رہتے کہ سنگ و خشت کی بستی میں شیشہ گر نہیں رہتے ادھوری ہر کہانی ہے یہاں ذوق تماشا کی کبھی نظریں نہیں رہتیں کبھی منظر نہیں رہتے بہت مہنگی پڑے گی پاسبانی تم کو غیرت کی جو دستاریں بچا لیتے ہیں ان کے سر نہیں رہتے مجھے نادم کیا کل رات دروازے نے یہ کہہ کر شریف انسان گھر سے دیر تک باہر نہیں رہتے خود آگاہی کی منزل عمر بھر ان کو نہیں ملتی جو کوچہ گرد اپنی ذات کے اندر نہیں رہتے پٹخ دیتا ہے ساحل پر سمندر مردہ جسموں کو زیادہ دیر تک اندر کے کھوٹ اندر نہیں رہتے بجا ہے زعم سورج کو بھی ناز اپنی تمازت پر ہمارے شہر میں بھی موم کے پیکر نہیں رہتے

bahut arsa gunahgaaron mein paighambar nahin rahte

غزل · Ghazal

دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے درد نس نس میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے دل میں ہو شوق ملاقات کا طوفان بپا اور رستے میں چناں ہو تو غزل ہوتی ہے شوق حسرت کے شراروں سے جلا پاتا ہے جان جاں دشمن جاں ہو تو غزل ہوتی ہے کچھ بھی حاصل نہیں یک طرفہ محبت کا جناب ان کی جانب سے بھی ہاں ہو تو غزل ہوتی ہے شوکت فن کی قسم حسن تخیل کی قسم دل کے کعبے میں اذاں ہو تو غزل ہوتی ہے میں اگر ان کے خد و خال میں کھو جاؤں کبھی وہ کہیں ناز کہاں ہو تو غزل ہوتی ہے

dil kaa har zakhm javaan ho to ghazal hoti hai

غزل · Ghazal

پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھے اب تو اپنا گھر بھی اپنا گھر نہیں لگتا مجھے لگتی ہوگی تجھ کو بھی میری نظر بدلی ہوئی تیرا پیکر بھی ترا پیکر نہیں لگتا مجھے کیا کہوں اس زلف سے وابستگی کا فائدہ اب اندھیری رات میں بھی ڈر نہیں لگتا مجھے مجھ کو زخمی کر نہیں سکتا کوئی دست ستم میں ندی کا چاند ہوں پتھر نہیں لگتا مجھے سنت شاہ امم کا ہوں میں لذت آشنا خاک سے بہتر کوئی بستر نہیں لگتا مجھے جب سے دستار فضیلت پائی ہے دربار میں جانے کی شانوں پہ اپنا سر نہیں لگتا مجھے ہیں سخنور نازؔ اچھے اور بھی اس دور میں کوئی دانشؔ کا مگر ہمسر نہیں لگتا مجھے

pahle jaisaa rang-e-baam-o-dar nahin lagtaa mujhe

غزل · Ghazal

عذاب حسرت و آلام سے نکل جاؤ مری سحر سے مری شام سے نکل جاؤ بہانہ چاہیے گھر سے کوئی نکلنے کو کسی طلب میں کسی کام سے نکل جاؤ ہمارے خانۂ دل میں رہو سکون کے ساتھ نکلنا چاہو تو آرام سے نکل جاؤ خدا نصیب کرے تم کو بے گھری کا مذاق حصار شوق در و بام سے نکل جاؤ سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے کسی طرف بھی کسی کام سے نکل جاؤ نکال پھینکو دلوں سے بتان بغض و عناد نہیں تو حلقۂ اسلام سے نکل جاؤ

azaab-e-hasrat-o-aalam se nikal jaao

Similar Poets