
Naz Muzaffarabadi
Naz Muzaffarabadi
Naz Muzaffarabadi
Ghazalغزل
apne sivaa kisi kaa agar honaa aa gayaa
اپنے سوا کسی کا اگر ہونا آ گیا سمجھو ہمارے ہاتھ کوئی ٹونا آ گیا پا لیں گے زندگی کی حقیقت کا راز بھی اک دوسرے کے واسطے گر کھونا آ گیا نزدیک آتے آتے بہت دور ہو گئے یہ بات یاد کر کے مجھے رونا آ گیا بالوں کا رنگ چھپ گیا رستوں کی دھول میں یوں ہی نہیں یہ بوجھ ہمیں ڈھونا آ گیا طے ہو رہا تھا وقت ملاقات کا ابھی پھر یوں ہوا کہ بیچ میں کرونا آ گیا
be-shak jhagDaa tuuli ho
بے شک جھگڑا طولی ہو لیکن بات اصولی ہو اپنے اپنے کاندھے پر اپنی اپنی سولی ہو یوسف سے بک جاتے ہیں تم کس کھیت کی مولی ہو اف وہ اس کا تیکھا پن جیسے بجلی چھو لی ہو آخر کٹ ہی جاتی ہے شب جتنی بھی طولی ہو ایک ہی جیسی ہوتی ہیں ببلی ہو کہ جولی ہو نازؔ یہ کیسے ممکن ہے آپ کی حکم عدولی ہو
is imtihaan mein thaa kabhi us imtihaan mein thaa
اس امتحاں میں تھا کبھی اس امتحاں میں تھا میں تھا زمیں پہ رزق مرا آسماں میں تھا حالانکہ کوئی مد مقابل نہ تھا وہاں اک ولولہ عجیب دل ناتواں میں تھا اردو سے میرا عشق لڑکپن سے تھا عیاں میں نے جو پہلا خط لکھا اردو زباں میں تھا دل یوںہی کہہ رہا تھا وہ آئے گا لوٹ کے اک سلسلہ یقین بھی وہم و گماں میں تھا تم نے تجاوزات سمجھ کے گرا دیا خوابوں کا اک جہان نہاں اس مکاں میں تھا اخلاقیات بھول گئے تھے وہاں کے لوگ ہر آدمی پڑا ہوا سود و زیاں میں تھا سانسیں رکی ہوئی تھیں وہاں سامعین کی سر چڑھ کے بولتا تھا وہ جادو بیاں میں تھا
raste pe bhi nazar hai to raste ke paar bhi
رستے پہ بھی نظر ہے تو رستے کے پار بھی حالانکہ اب نہیں ہے ترا انتظار بھی راہ طلب میں خاک بسر ہونا پڑتا ہے لازم ہے اب انا کا لبادہ اتار بھی تنہائی چاٹ لے گی سنہرے بدن کی دھوپ اے خود پرست شخص کسی کو پکار بھی اچھے دنوں کی بات ہے جب تیری بزم میں ہوتا تھا دوستوں میں ہمارا شمار بھی اس عشق میں یہ حال تو ہونا تھا جان من اب سر پہ آ پڑی ہے تو ہنس کر گزار بھی کچھ عشق بھی تھا جان کا دشمن بنا ہوا حالات و واقعات تھے نا ساز گار بھی یہ کیا کیا کہ نازؔ کو یکسر بھلا دیا اتنا نہیں تھا سلسلہ ناپائیدار بھی
she'r ghaD ke sunaane paDte hain
شعر گھڑ کے سنانے پڑتے ہیں یوں تمہیں دکھ بتانے پڑتے ہیں سچ کہا ہے یہ بھلے شہ جی نے یار نچ کے منانے پڑتے ہیں وصل سودا نہیں ہے لمحوں کا ہر قدم پر زمانے پڑتے ہیں دل مسافر بھٹک گیا ہوگا راہ میں آستانے پڑتے ہیں جان دے کر بھی بنت حوا کو کچھ تعلق بچانے پڑتے ہیں جب گلستاں میں روشنی کم ہو آشیانے جلانے پڑتے ہیں
tumhaari to bas angDaai hui thi
تمہاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی ہماری جاں پہ بن آئی ہوئی تھی نظر کے وار سے بچنا تھا مشکل مصیبت گھیر کر لائی ہوئی تھی غزل پر میں غزل کہنے لگا تھا طبیعت موج میں آئی ہوئی تھی وہ خود ملنے چلا آیا تھا جس نے نہ ملنے کی قسم کھائی ہوئی تھی بچھڑ کر کس طرح ملنا ہے ہم نے اسے یہ بات سمجھائی ہوئی تھی یوں ہی اک روز وہ بازار آیا پھر اس کے بعد مہنگائی ہوئی تھی





