SHAWORDS
N

Naz Nizami

Naz Nizami

Naz Nizami

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

یہ بھی نہیں کہ بالا و برتر نہیں ہوں میں مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں کافی ہے اک کرن بھی مٹانے کے واسطے شبنم ہوں برگ گل پہ سمندر نہیں ہوں میں کیوں کر قفس میں مجھ کو نہ آئے چمن کی یاد بے بال و پر ضرور ہوں بے گھر نہیں ہوں میں ظلم و ستم کی ساری حدیں پار کر گیا پھر بھی وہ کہہ رہا ہے ستم گر نہیں ہوں میں کوہ غم و الم کو کیا میں نے پاش پاش یوں دیکھیے تو آہن و پتھر نہیں ہوں میں میں تیرا ایک پرتو فانی جہاں میں ہوں گویا یہ طے ہے اتنا بھی کمتر نہیں ہوں میں تاریک راستوں میں کہا راہبر نے نازؔ عزم سفر کے نور سے بڑھ کر نہیں ہوں میں

ye bhi nahin ki baalaa-o-bartar nahin huun main

غزل · Ghazal

جہان رنگ و بو میں کیا نہیں ہے مگر کوئی کہیں تجھ سا نہیں ہے بہت پھیلا ہے یہ شہر تمنا یہاں ممکن سکوں پانا نہیں ہے ہنسے جو آبلہ پائی پہ تیری وہ تیرا ہم سفر تیرا نہیں ہے نہ اترا اس قدر باد خزاں تو کوئی پتا ابھی سوکھا نہیں ہے نہیں کوئی نہیں ہے میرے جیسا مرا سایہ بھی مجھ جیسا نہیں ہے جسے صدیوں سے خون دل سے سینچا وہ گلشن آج بھی اپنا نہیں ہے وہ جس سے نازؔ تم گھبرا رہے ہو کوئی آسیب یا سایا نہیں ہے

jahaan-e-rang-o-bu mein kyaa nahin hai

غزل · Ghazal

کب طبیعت کو راس آئے ہیں یہ جو دل پر غموں کے سائے ہیں رہزنوں سے نہیں کوئی شکوہ رہبروں سے فریب کھائے ہیں سرد راتوں میں سرد آہوں نے اشک آنکھوں ہی میں جمائے ہیں چاندنی نے سفید مخمل پر آج جادو کئی جگائے ہیں حیف یہ نیتوں کے کھوٹے لوگ آپ ہی اپنا گھر جلائے ہیں وقت کی کیا ستم ظریفی ہے جو تھے اپنے وہی پرائے ہیں میری ہمت کو مرحبا کہئے آندھیوں میں دئے جلائے ہیں نازؔ تاریکیٔ توہم میں علم ہی نے دیے جلائے ہیں

kab tabiat ko raas aae hain

غزل · Ghazal

وہ ماہر زبان و بیاں ماہر سخن غالب کے ہم نوا وہ شناسائے علم و فن تاثیر تھی زباں میں تو گفتار پرکشش اب بھی مجھے ہے یاد وہ لہجے کا بانکپن عابد معلمی کو عبادت سمجھتے تھے تحقیق تھی عمامہ تو تنقید پیرہن خود ان ہی کے جلائے چراغوں کے نور سے علم و عمل کی آج بھی روشن ہے انجمن

vo maahir-e-zabaan-o-bayaan maahir-e-sukhan

غزل · Ghazal

راہ خاموش راہ بر خاموش کارواں لٹ گیا سفر خاموش وقت پڑنے پہ ہر نظر خاموش درد بڑھنے پہ چارہ گر خاموش خانۂ دل میں ہو کا عالم ہے اور دیوار و بام و در خاموش کیسی اب کے بہار آئی ہے بلبلیں چپ تو ہیں شجر خاموش حال دل کب ہے اس سے پوشیدہ جان کر بھی ہے وہ مگر خاموش حسن فطرت کا بولتا منظر کر گیا مجھ کو کس قدر خاموش کیوں مسلسل ستم اٹھائے کوئی کیوں رہے کوئی عمر بھر خاموش جھیلتے جھیلتے عذاب یہاں ہو گئے نازؔ گھر کے گھر خاموش

raah khaamosh raahbar khaamosh

Similar Poets