SHAWORDS
Nazar Dwivedi

Nazar Dwivedi

Nazar Dwivedi

Nazar Dwivedi

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

apnaa rakhtaa khayaal hai koi

اپنا رکھتا خیال ہے کوئی تیرے جیسا نڈھال ہے کوئی تیرا دعویٰ ہے سچ تو زندہ ہے اس کی زندہ مثال ہے کوئی خود ہی کرتی ہے موت سے سودا زندگی سا دلال ہے کوئی آپ آئے ہیں میرے حجرے پر راز کچھ ہے کہ چال ہے کوئی اوڑھ لیتا ہے چاہے جس کی جب تیری اپنی بھی کھال ہے کوئی کامیابی ملی ہے تجھ کو جو اس میں تیرا کمال ہے کوئی پوچھ لیتا کبھی نظرؔ سے بھی اس کا اپنا سوال ہے کوئی

غزل · Ghazal

agarche muskuraa kar maangtaa hai

اگرچہ مسکرا کر مانگتا ہے وہ میری جان اکثر مانگتا ہے سبھی کچھ چاہیئے اس آدمی کو مگر احساس بنجر مانگتا ہے زبانی پوچھتا ہے پرشن مجھ سے مگر لکھ کر ہی اتر مانگتا ہے پتہ ہے پیار کی قلت اسے بھی محبت کب گداگر مانگتا ہے ہوس انسان کی کتنی ہے دیکھو وہ قطروں سے سمندر مانگتا ہے وہ تم سے چھین بھی لے گا کسی دن ابھی تک جو سہم کر مانگتا ہے وہ جاتا اوڑھ کر آخر کفن ہی نظرؔ جو زندگی بھر مانگتا ہے

غزل · Ghazal

ab aaine ko shakl bhi dikhlaa na paaeinge

اب آئنے کو شکل بھی دکھلا نہ پائیں گے کچھ لوگ اپنے آپ کو سمجھا نہ پائیں گے آئیں گے پاس بیٹھ کے دیں گے تسلیاں لیکن کسی کا زخم وہ سہلا نہ پائیں گے کہنی تھی اپنی بات جو اک بار کہہ چکے ہر دن وہی بیان تو دہرا نہ پائیں گے کتنی اداس گھر کی ہے دہلیز آج کل جب سے وہ کہہ گئے ہیں کہ اب آ نہ پائیں گے مت بھولیے کہ آج کے بچے ذہین ہیں پریوں کی داستان سے بہلا نہ پائیں گے مانگیں بھی سر جھکا کے ترے در پہ اور کیا پہلے سے جو ملا ہے وہ لوٹا نہ پائیں گے اب تو اتر گئے ہیں تمہاری نظرؔ سے ہم خود کو کسی مقام پہ پہنچا نہ پائیں گے

غزل · Ghazal

main ne jab jab bhi aaina dekhaa

میں نے جب جب بھی آئنہ دیکھا خود سے خود کا مقابلہ دیکھا صرف تجھ سے بچھڑ کے دنیا میں اپنی ہستی کو جا بہ جا دیکھا در پہ تیرے نہ جھک سکا جو بھی اس کو در در ہی پھر جھکا دیکھا سرخیوں میں رہے جو قد آور ان کا ایمان بھی ڈگا دیکھا اشک سوکھے تو اس کے تیور میں پھر بغاوت کا زلزلہ دیکھا جس کو آدھا سمجھ رہا تھا میں اس کو اپنے سے دو گنا دیکھا شعر میرے پڑھے زمانہ نے کس نے میرا تھا رتجگا دیکھا

غزل · Ghazal

apne honTon pe jo du'aa rakhtaa

اپنے ہونٹوں پہ جو دعا رکھتا پھر کسی سے نہ وہ گلہ رکھتا صرف کاسہ لیے پھرا ہر دم میں تو سائل تھا اور کیا رکھتا مانگتے تو سبھی ہیں دنیا میں کس کو دینا ہے وہ پتہ رکھتا روگ ایسا ہے عشق کا یارو کب کسی کو وہ کام کا رکھتا فیصلے کا پتہ تھا پہلے سے میں بھی اپنی دلیل کیا رکھتا سب کو دیتا خوشی وہ دنیا میں سب کا اونچا وہ مرتبہ رکھتا

غزل · Ghazal

na jaane us ke kitne hi sahaare saath rahte hain

نہ جانے اس کے کتنے ہی سہارے ساتھ رہتے ہیں وہ پاتا منزلیں جس کے ستارے ساتھ رہتے ہیں چلے جاؤ کہیں لیکن اکیلے تم نہیں ہوتے یقیں مانو وہاں ہم بھی تمہارے ساتھ رہتے ہیں کہاں چوہا کہاں بلی کہاں کتا کہاں پنچھی مصیبت جب پڑی ہو تو یہ سارے ساتھ رہتے ہیں فلک تم ہو زمیں ہم ہیں نہیں ممکن کبھی ملنا ندی کے بھی کہاں دونوں کنارے ساتھ رہتے ہیں مناظر وہ بھی دکھتے ہیں جنہیں ہو دیکھنا مشکل کہاں خوش رنگ ہر دم ہی نظارے ساتھ رہتے ہیں نہ سمجھاؤ وطن کی تم ترقی کا انہیں مطلب یہ بستی ہے جہاں قسمت کے مارے ساتھ رہتے ہیں اکیلے ہم رہیں پھر بھی نظرؔ تنہا نہیں ہوتے تمہارے خوابوں کے سائے ہمارے ساتھ رہتے ہیں

Similar Poets