SHAWORDS
Nazar Kanpuri

Nazar Kanpuri

Nazar Kanpuri

Nazar Kanpuri

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

jab tabassum aap farmaane lage

جب تبسم آپ فرمانے لگے پھر حقیقت مجھ کو افسانے لگے اے محبت تجھ سے کیا بچھڑے کہ ہم آئنے میں خود کو انجانے لگے گنگنانا چاہیے ایسی غزل ان کی آنکھوں میں بھی نیند آنے لگے میری تنہائی مرا غم دیکھ کر آسماں بھی اشک برسانے لگے آپ کو میں دوست سمجھا تھا نظرؔ آپ بھی اب طنز فرمانے لگے

غزل · Ghazal

duur kyaa shama kabhi rahti hai parvaane se

دور کیا شمع کبھی رہتی ہے پروانے سے آپ کیوں روٹھ گئے اپنے ہی دیوانے سے جس طرح مے چھلک اٹھے کبھی پیمانے سے آپ یوں دور ہوئے اپنے ہی مستانے سے پیار کی آگ میں جلنے کا مزا ہے کیسا کیا بتائے گا کوئی پوچھئے پروانے سے میکدے کی اس اداسی سے پتہ لگتا ہے تشنہ لب اٹھ گیا شاید کوئی میخانے سے رات باقی ہے ابھی جانے کی جلدی کیا ہے سب چلا جائے گا اک تیرے چلے جانے سے لگ گئی کس کی نظر دور ترقی پہ خدا آج اپنے ہی نظر آتے ہیں بیگانے سے

غزل · Ghazal

ishq kaa ek ghar hamaaraa hai

عشق کا ایک گھر ہمارا ہے باقی سارا جہاں تمہارا ہے اس سے مانگو جو سب کو دیتا ہے مفلسوں کا وہی سہارا ہے ایک کانٹا بھی چھو نہیں سکتے یوں تو سارا چمن ہمارا ہے زندگی سے حساب کر لیتے ہم کو احساس بس تمہارا ہے میرے ہم راہ جب نہیں ہو تم مجھ کو جینا نہیں گوارا ہے مجھ کو گھیرا ہے جب مصائب نے میرے دل نے تمہیں پکارا ہے

غزل · Ghazal

un kaa sandeshaa laai yaad

ان کا سندیشا لائی یاد وہ نہیں آئے آئی یاد سہما سہما سا عالم شرمائی شرمائی یاد ان سے نسبت کے بل پر مجھ سے ہی اٹھلائی یاد آنکھوں سے برسات ہوئی بادل بن کر چھائی یاد ابھرے نظر کرنے منظر بیتے دنوں کی آئی یاد

غزل · Ghazal

phuul pe jab ik titli dekhi apni javaani yaad aai

پھول پہ جب اک تتلی دیکھی اپنی جوانی یاد آئی آج نہ جانے پھر کیوں مجھ کو اپنی کہانی یاد آئی زخم کے ٹانکے ٹوٹ گئے سب رات چلی جو پروائی پھر تو چلے تھے زخم مگر پھر تیری نشانی یاد آئی یوں تو سب کچھ بھول چکا ہوں ترک وفا کے بعد مگر درد اٹھا جب دل میں میرے تیری نشانی یاد آئی تیرے کنوارے جسم کی خوشبو پھیل گئی ہے کمرے میں تجھ کو ہوا جب چھو کر آئی رات سہانی یاد آئی شمع کی لو پر جلتے دیکھا رات جو اک پروانے کو ساری کہانی ماضی کی وہ اپنی زبانی یاد آئی بہتے ہوئے اک دریا کو جو دیکھا میں نے ایک نظرؔ ہائے کسی کے لہجے کی وہ نرم کہانی یاد آئی

غزل · Ghazal

Duub ke dekh liyaa dard ki gahraai mein

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں آج کی رات گزر جائے گی تنہائی میں شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تری ہو کمی کچھ نہ تری انجمن آرائی میں بے سبب ہوگا مرے ساتھ میں رسوا وہ بھی نام اس کا بھی ہے شامل میری رسوائی میں بعد مدت کے اسے دیکھا تو احساس ہوا ہر دبی چوٹ ابھر آتی ہے پروائی میں یوں تو ہر ایک ادا ہے تری ظالم لیکن ہے قیامت ہی قیامت تری انگڑائی میں چاک داماں کی نمائش میں یہ غم ہیں مجھ کو وہ بھی موجود تھا اس وقت تماشائی میں کہہ دو مطرب سے نظرؔ ساز محبت نہ بجا اس کی پازیب کی جھنکار ہے شہنائی میں

Similar Poets