SHAWORDS
Nazar Lakhnawi

Nazar Lakhnawi

Nazar Lakhnawi

Nazar Lakhnawi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

aaluda-e-isyaan khud ki hai dil vo maan-e-isyaan kyaa hogaa

آلودۂ عصیاں خود کہ ہے دل وہ مانع عصیاں کیا ہوگا جو اپنی حفاظت کر نہ سکا وہ میرا نگہباں کیا ہوگا ذوق دل شاہاں پیدا کر تاج سر شاہاں کیا ہوگا جو لٹ نہ سکے وہ ساماں کر لٹ جائے جو ساماں کیا ہوگا غم خانہ صنم خانہ ایواں یا خانۂ ویراں کیا ہوگا قصہ ہے دل دیوانہ کا حیراں ہوں کہ عنواں کیا ہوگا جو سیر چمن کو آتا ہے وہ طالب گل ہی ہوتا ہے پوچھے کوئی ان نادانوں سے خار چمنستاں کیا ہوگا کچھ شکوہ نہیں اتنا سن لے اے مست ستم ناوک افگن دل ہی نہ رہے گا جب میرا پھر تیرا یہ پیکاں کیا ہوگا اے ہنسنے ہنسانے والے جا افسردگئ دل بڑھتی ہے جس کو ہو ازل سے نسبت غم ہنسنے سے وہ خنداں کیا ہوگا آج اپنی نظرؔ سے وہ دیکھیں یہ سلسلۂ طوفاں آ کر کل کہتے تھے جو حیراں ہو کر ساحل پہ بھی طوفاں کیا ہوگا

غزل · Ghazal

kahiye kis darja vo khurshid-jamaal achchhaa hai

کہیے کس درجہ وہ خورشید جمال اچھا ہے مختصر یہ کہ وہ آپ اپنی مثال اچھا ہے دوسروں کے دل نازک کا خیال اچھا ہے کوئی پوچھے تو میں کہہ دیتا ہوں حال اچھا ہے آئے دن کی تو نہیں ٹھیک جنوں خیزیٔ دل موسم گل تو یہ بس سال بہ سال اچھا ہے مجھ کو کافی ہے میں سمجھوں گا اسے حسن جواب بس وہ فرما دیں کہ سائل کا سوال اچھا ہے یہ جو بگڑا تری تقدیر بگڑ جائے گی دل ہے دل یہ اسے جتنا بھی سنبھال اچھا ہے اس سے زائل ہو نظرؔ اس سے ہو دل تک روشن روئے خورشید سے وہ روئے جمال اچھا ہے

غزل · Ghazal

manzil mile be-hausla-e-jaan nahin dekhaa

منزل ملے بے حوصلۂ جاں نہیں دیکھا ہوتے ہوئے ایسا تو کبھی ہاں نہیں دیکھا غیر آئے گئے پھول چنے بو بھی اڑائی ہم ایسے کہ اپنا ہی گلستاں نہیں دیکھا دامن بھی سلامت ہے گریباں بھی سلامت اے جوش جنوں تجھ کو نمایاں نہیں دیکھا ہیں تیرے تسلط میں فضائیں بھی زمیں بھی تجھ میں ہی مگر ذوق سلیماں نہیں دیکھا ہے چشم تصور بھی یہ درماندہ و عاجز تجھ کو کبھی اے جلوۂ پنہاں نہیں دیکھا احساس زیاں وائے کہ ہے رو بہ تنزل کل تھا جو اسے آج پشیماں نہیں دیکھا کتنے ہی سخن ور و خنداں نظرؔ ایسے جن کو کبھی محفل میں غزل خواں نہیں دیکھا

غزل · Ghazal

nazaara karun kaise tiri jalvagari kaa

نظارہ کروں کیسے تری جلوہ گری کا پردہ ابھی حائل ہے مری بے بصری کا اسلوب نیا راس نہیں چارہ گری کا بیمار پہ عالم ہے وہی بے خبری کا چسکا اسے اف پڑ ہی گیا در بدری کا کیا کیجیے انساں کی اس آشفتہ سری کا یہ راہ محبت ہے یہ کانٹوں سے بھری ہے مقدور نہیں سب کو مری ہم سفری کا ہمدم نہ اڑا جامۂ اخلاق کی دھجی دیوانوں کو ہوتا ہے جنوں جامہ دری کا دیکھا ہے کہ کھلتے نہیں دل اہل دول کے بھرتا نہیں منہ کاسۂ دریوزہ گری کا

غزل · Ghazal

chehra un kaa subh-e-raushan gesu jaise kaali raat

چہرہ ان کا صبح روشن گیسو جیسے کالی رات باتیں ان کی سبحان اللہ گویا قرآں کی آیات رخ کا جلوہ پنہاں رکھا پیدا کر کے مخلوقات حسن ظاہر سب نے دیکھا کس نے دیکھا حسن ذات جذبہ کی سب گرمی سردی بہتے اشکوں کی برسات ہم نے سارے موسم دیکھے ہم پر گزرے سب حالات غم کی ساری چالیں گہری بچتے بچتے آخر کار دیکھا اس بے چارے دل نے بے بس ہو کر کھائی مات جیتے جی کب دنیا پوچھے مرتے ہی اس درجہ پیار ہاتھوں ہاتھ اٹھائے دنیا لائے اشکوں کی سوغات حسن خود بیں جس کی فطرت شیخی شوخی ظلم و جور دام الفت میں پھنس جائے میری آنکھوں دیکھی بات عمر پایاں کی منزل میں عہد ماضی آئے یاد اب بھی نظرؔ میں رقصاں میرے بھولے بچپن کے لمحات

غزل · Ghazal

sar na sajde se uThaa taakhir par taakhir kar

سر نہ سجدے سے اٹھا تاخیر پر تاخیر کر ذرے جو تحت جبیں آئے انہیں اکسیر کر بندۂ رب بن کے روشن اپنی تو تقدیر کر عالم کن ہے ترا قبضے میں یہ جاگیر کر اشک باری حب احمد انس مخلوق جہاں یہ ہیں اجزائے ثلاثہ ان سے دل تعمیر کر دامن ہستی میں تیرے جو ہیں ذرے خاک کے ضرب اللہ ہو سے اس مٹی کو پر تنویر کر اس طرح سے کچھ نہ کچھ شاید کہ ہلکا بوجھ ہو اضطراب دل نظرؔ اپنا تو عالمگیر کر

Similar Poets