SHAWORDS
Nazeer Ansari

Nazeer Ansari

Nazeer Ansari

Nazeer Ansari

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چلئے کی راہ میں ہیں شجر سایہ دار بھی دیتے ہیں داد آبلہ پائی کی خار بھی ناکامیوں کے بعد بھی رکتے نہیں قدم مجبوریوں میں رکھتے ہیں ہم اختیار بھی انسان ٹھہرا شعلہ و شبنم کا ہم مزاج جنت کی آرزو ہے گناہوں سے پیار بھی راتوں کا سلسلہ ہو کہ دن کی تجلیاں پابند چشم یار ہیں لیل و نہار بھی رہنے دو اپنا ہاتھ ابھی میرے ہاتھ میں ڈرتا ہوں کھو نہ دوں کہیں دل کا قرار بھی وعدہ پہ اس کی کتنی خوشی ہے نہ پوچھئے آتا نہیں ہے دل کو مگر اعتبار بھی کہہ دے زمانہ کچھ بھی مجھے غم نہ کر نذیرؔ لگتا نہیں ہے جب کہ مجھے ناگوار بھی

chaliye ki raah mein hain shajar saaya-daar bhi

غزل · Ghazal

قرار تجھ کو دل بے قرار آ جائے تڑپ کچھ ایسے کہ ظالم کو پیار آ جائے نوازشوں پہ اگر حسن یار آ جائے زبان خار کو نطق ہزار آ جائے طلوع صبح سے روشن چراغ رکھتے ہیں کٹے بھی دن وہ شب انتظار آ جائے ترا بھی اے غم دوراں میں زور دیکھوں گا ذرا سکوں میں دل سوگوار آ جائے غضب کی دھوپ ہے اے دل نہ بیٹھ رستے میں ٹھہر ٹھہر شجر سایہ دار آ جائے اسی فریب کو حسن فریب کہتے ہیں وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آ جائے نگار خانۂ احباب سے غرض مجھ کو کسی شمار میں یہ خاکسار آ جائے غموں کی شرح سے بزم جہاں میں رونق ہے بپا ہو حشر اگر اختصار آ جائے بڑی حسین زمانے کی چال ہے لیکن فریب میں دل ناپختہ کار آ جائے نذیرؔ صبح نہ پھر وقت شام دیکھیں گے نظر میں حاصل لیل و نہار آ جائے

qaraar tujh ko dil-e-be-qaraar aa jaae

غزل · Ghazal

حسین کون ہے حسن دوام کس کا ہے زوال جس کو نہیں ہے وہ نام کس کا ہے یہ مے کدہ یہ صراحی یہ جام کس کا ہے برائے بادہ کشاں اہتمام کس کا ہے شب فراق منور ہے کس کے وعدوں سے دلوں میں آس کی صورت قیام کس کا ہے نہیں ہے کوئی اگر صبح کے پس پردہ تو انتظار ہمیں وقت شام کس کا ہے ازل سے ہے جو دل کائنات کی دھڑکن حیات بخش مسلسل پیام کس کا ہے جہاں سے زیست کی رعنائیاں نہیں جاتیں حیات پوچھ رہی ہے نظام کس کا ہے ہے کس کی زلف معنبر کی باس پھولوں میں خزاں‌ بدوش بہاروں کا دام کس کا ہے کئے ہیں کس کو جبین نیاز نے سجدے یہ احترام اے بیت الحرام کس کا ہے نذیرؔ اپنے خدا کی شناخت رکھتا ہے شعور کیوں نہ ہو اتنا غلام کس کا ہے

hasin kaun hai husn-e-davaam kis kaa hai

غزل · Ghazal

خلش کا حسن نظر میں رہے تو اچھا ہے ابھی یہ تیر جگر میں رہے تو اچھا ہے مرا خیال پریشاں بھی اے شب ہجراں جو بزم نجم و قمر میں رہے تو اچھا ہے گرے نظر سے تو اشکوں کی آبرو جائے سدا یہ آب گہر میں رہے تو اچھا ہے ہمیشہ عشق کی آتش کو سینے میں رکھیں جگر کا خون جگر میں رہے تو اچھا ہے تڑپ نہ دل کہ رقیب آئیں چارہ گر بن کر یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے عجب نہیں وہ کسی روز ہم نوا ہو جائیں مرا خیال خبر میں رہے تو اچھا ہے اسی کو جہد مسلسل کی آبرو کہئے یقیں کا ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے غزل تو خوب سجائی ہے آپ نے لیکن ہنر یہ دست ہنر میں رہے تو اچھا ہے نذیرؔ جھیل کا پانی بھی سوکھ سکتا ہے کنول یہ دیدۂ تر میں رہے تو اچھا ہے

khalish kaa husn nazar mein rahe to achchhaa hai

غزل · Ghazal

نہ تو دوستی نہ تو دشمنی نہی دل میں کوئی غبار ہے وہ غضب کے تیر کدھر کے تھے کہ تمام سینہ فگار ہے نہ شفق کا رنگ نہ بوئے گل نہ فروغ صبح بہار ہے ترے رنگ و روپ کا سحر ہے جو فضاؤں میں یہ نکھار ہے جو نظر میں آیا چمک گیا جسے چھو لیا وہ مہک گیا یہی طرز حسن خصال ہے جو زمانہ اس پہ نثار ہے کوئی گرد راہ بتاں بنا کوئی رشک حور جناں بنا کوئی شاہکار جہاں بنا یہی ایک مشت غبار ہے جو ضیا فشاں ہے نظر نظر وہ کہاں ملے یہ نہیں خبر مرے دل میں ہے وہی سربسر نہ تو برق ہے نہ شرار ہے وہ گھٹن ہے آج فضاؤں میں کہ شراب میں بھی مزا نہیں نہ گلوں پہ رنگ شباب ہے نہ تو نغمہ زن وہ ہزار ہے مرے عشق کی ہیں کرامتیں کہ ہوئی ہیں تیری نوازشیں تری زلف کی سی مہک لئے مرے گرد کیسا حصار ہے نہ قیام میں نہ سجود میں نہ تو لطف جام و سرود میں یہ ہے زندگی کوئی زندگی نہ تو قید ہے نہ فرار ہے وہ جنون عشق ہے معتبر جو تپا ہو لیل و نہار کا نہ تلاش ہو کسی چھاؤں کی نہ سکوں میں اس کو قرار ہے غم زندگی کہاں سب ملا یہی مانئے کہ وہ کم ملا کہ نذیرؔ قید حیات میں کہاں رنج و غم کا شمار ہے

na to dosti na to dushmani nahi dil mein koi ghubaar hai

غزل · Ghazal

کسی صورت کسی پہلو سکون دل نہیں ملتا کہاں ڈھونڈیں وہ جان رونق محفل نہیں ملتا عقیدت ہے محبت ہے بڑی قربت بھی ہے لیکن خدا جانے کہ کیوں مجھ سے تمہارا دل نہیں ملتا میں واقف ہوں دل بسمل کہ تیرا مدعا کیا ہے پریشاں ہیں نگاہیں کوچۂ قاتل نہیں ملتا مزاج یار کی صورت زمانہ رخ بدلتا ہے کبھی ماضی سے میرا حال و مستقبل نہیں ملتا یہ دنیا دل ربا بھی ہے یہ دنیا بے وفا بھی ہے یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا یہاں آساں نہیں جینا یہاں مرنا بھی مشکل ہے محبت میں کسی کو مدعائے دل نہیں ملتا زمانہ تھا انہی موجوں پہ میری حکمرانی تھی ہوا یہ حال کشتی کو بھی اب ساحل نہیں ملتا ستاروں دو گھڑی کے واسطے آنکھیں ہمیں دے دو زمیں کا یہ عجوبہ ہے مہ کامل نہیں ملتا جسے وہ مل گیا ہو جس کا وہ طالب تھا دنیا میں نذیرؔ ایسا کوئی ڈھونڈے سے بھی سائل نہیں ملتا

kisi surat kisi pahlu sukun-e-dil nahin miltaa

Similar Poets