
Nazeer Meeruthy
Nazeer Meeruthy
Nazeer Meeruthy
Ghazalغزل
zaraa si baat pe itnaa jalaal kyuun aayaa
ذرا سی بات پہ اتنا جلال کیوں آیا تعلقات کے شیشے میں بال کیوں آیا کسی بزرگ کی صحبت ہے تم کو کیا معلوم مرے مزاج میں یہ اعتدال کیوں آیا زمیں پہ آ گیا مغرور یہ خبر بھی ہے ترقیات کو اس کی زوال کیوں آیا اسے گنوانے کا پچھتاوا گر نہیں تجھ کو تری زبان پہ لفظ ملال کیوں آیا چلو یہ مانا شکاری نہیں ہے صوفی ہے بغل میں اپنی دبا کر وہ جال کیوں آیا بچھڑ کے بھی تو تصور میں تیرے آؤں گا مگر بچھڑنے کا تجھ کو خیال کیوں آیا جو اہل ہوش کو دیوانہ ہی بناتا ہے نظر کے سامنے وہ با کمال کیوں آیا گیا تھا سوچ کے مل کر ہی اس سے آؤں گا نذیرؔ لوٹ کے اتنا نڈھال کیوں آیا
vo jis ki saaraa jahaan pukhtagi se haar gayaa
وہ جس کی سارا جہاں پختگی سے ہار گیا وہ ایک کوہ گراں آدمی سے ہار گیا وہی جو رات پہ چھایا ہوا اندھیرا تھا سحر ہوئی ہے تو وہ روشنی سے ہار گیا نہیں ہے کوئی سبب سب سے اس کے کٹنے کا غریب آدمی تھا مفلسی سے ہار گیا ہر اک محاذ پہ دشمن کو جس سے مات ہوئی وہ اپنے دوستوں کی دوستی سے ہار گیا بہت عزیز تھی اس کو بھی اپنی جان مگر حصار جبر میں وہ بے بسی سے ہار گیا دراصل اس کے مقدر میں ہار لکھی تھی وہ اس سے جنگ میں بد قسمتی سے ہار گیا ہمیشہ یہ ہی تو ہوتا رہا ہے میرے عزیز کسی کی جیت تو کوئی کسی سے ہار گیا نہیں تھا اس کے برابر کا اہل زر بھی کوئی مگر غریب کی دریا دلی سے ہار گیا یہ کیا مقام ہے انساں کی زندگی میں نظیرؔ نبھائی موت سے اور زندگی سے ہار گیا
palkon pe bhalaa kab ye Thaharne ke liye the
پلکوں پہ بھلا کب یہ ٹھہرنے کے لئے تھے موتی مری آنکھوں کے بکھرنے کے لئے تھے چمکے نہ کسی طور بھی زندہ رہے جب تک ہم خاک میں مل کر ہی نکھرنے کے لئے تھے اچھا ہے کہ اب صاف ہی کہہ دیجیے صاحب وعدے جو کئے تھے وہ مکرنے کے لئے تھے ہم آج تری راہ میں کام آ گئے آخر زندہ ہی ترے نام پہ مرنے کے لئے تھے اچھا نہیں لگتا تھا ترے ہجر میں جینا ہم لوٹ گئے تھے تو بکھرنے کے لئے تھے ہم لوگ سزا وار نہ تھے وادئ گل کے کانٹوں بھری راہوں سے گزرنے کے لئے تھے احباب بھی دشمن نظر آتے ہیں نظیرؔ آج چہروں پہ لگے چہرے اترنے کے لئے تھے
nahin ab baa-vafaa koi nahin hai
نہیں اب با وفا کوئی نہیں ہے مگر شکوہ گلہ کوئی نہیں ہے بھٹکتا ہی پھرے ہے قافلہ وہ وہ جس کا رہنما کوئی نہیں ہے یہ نگری ہے فقط گونگوں کی نگری کسی سے بولتا کوئی نہیں ہے یہ کیسے لوگ ہیں بستی ہے کیسی کسی کو جانتا کوئی نہیں ہے چلاتے ہیں یہاں بس اپنی اپنی کسی کی مانتا کوئی نہیں ہے بہت ہی دور ہیں ہم تم سے لیکن دلوں میں فاصلہ کوئی نہیں ہے یہاں بس تو ہی تو ہے اور میں ہوں ترے میرے سوا کوئی نہیں ہے غریب شہر ہیں اس شہر میں ہم ہمارا آشنا کوئی نہیں ہے دریچوں سے مری آہٹ کو سن کر نظیرؔ اب جھانکتا کوئی نہیں ہے
bahaaron ki tarah dar boltaa hai
بہاروں کی طرح در بولتا ہے کوئی آ جائے تو گھر بولتا ہے کبھی دیتا ہے نامہ بر بھی دستک کبھی چھت پر کبوتر بولتا ہے یہ دریا پیڑ پودے اور جھرنے ہر اک وادی کا منظر بولتا ہے تراشا ہے اسے میں نے ہنر سے مرے ہاتھوں کا پتھر بولتا ہے ادب والے سخن کہتے ہیں اس کو یہ جادو سر پہ چڑھ کر بولتا ہے تپایا ہے بہت محنت سے اس کو یہ سونا بھی نکھر کر بولتا ہے جہاں سے ہاتھ خالی جائیں گے سب یہ اک جملہ سکندر بولتا ہے سفارش کا بھروسہ بھی نہیں ہے مگر پیسہ برابر بولتا ہے نظیرؔ میرٹھی ہو بات کڑوی تو گونگا بھی پلٹ کر بولتا ہے
hamaa-shumaa ko nahin dost hi ko bhuul gayaa
ہما شما کو نہیں دوست ہی کو بھول گیا نہ بھولنا تھا جسے وہ اسی کو بھول گیا تونگری نے بدل ہی دیا ہے اس کا مزاج وہ مجھ کو اور مری دوستی کو بھول گیا کمی تو مے کی نہیں تھی مگر مرا ساقی کسی کو جام دیا اور کسی کو بھول گیا اطاعتیں ہی تو جینے کا عین مقصد ہے خدا کا بندہ مگر بندگی کو بھول گیا وہ میری جان کا دشمن ہے جانتا تھا میں ملا جو ہنس کے تو میں دشمنی کو بھول گیا قفس میں رہنے کا صیاد یہ نہیں مطلب قفس میں رہ کے میں پرواز ہی کو بھول گیا تمام عمر میں شاید تری تلاش میں تھا تو مل گیا تو میں آوارگی کو بھول گیا سفر طویل تھا اور میں تھکا ہوا تھا نظیرؔ لگن تھی اتنی کہ واماندگی کو بھول گیا





