Nazeer Nadir
ظلم جب حد سے سوا ہو تو عیاں ہوتا ہے دست مظلوم میں بھی سنگ گراں ہوتا ہے آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہ کرے گا لیکن اک دھماکہ ہی تو تاثیر فغاں ہوتا ہے جان کر بے سر و سامان کبھی ظلم نہ کر ساتھ مظلوم کے خود رب جہاں ہوتا ہے کون ہے وحشی یہاں کون ہے مظلوم بھلا اس کا اخبار میں ہر روز بیاں ہوتا ہے تنکے بن کر یوں ہی بہہ جاتے ہیں ظالم سارے جب بھی انصاف کا سیلاب رواں ہوتا ہے وقت کے آنے سے پہلے ہی سنبھل جا ورنہ رونا دھونا ترا بالکل ہی زیاں ہوتا ہے ظلم پر خامشی دانائی نہیں ہے نادرؔ جانتا خوب ہے جو اہل زباں ہوتا ہے
zulm jab had se sivaa ho to ayaan hotaa hai