
Nazeer Nazar
Nazeer Nazar
Nazeer Nazar
Ghazalغزل
ye kaaba ye kaashi haram dekhte hain
یہ کعبہ یہ کاشی حرم دیکھتے ہیں کہ اپنا خدا تجھ میں ہم دیکھتے ہیں زمانے کے سب خوب صورت نظارے تمہاری ہی آنکھوں سے ہم دیکھتے ہیں نہیں کچھ بھروسہ ہمیں اگلے پل کا نظر بھر کے تم کو صنم دیکھتے ہیں تری انتظاری سے اکتا گیا دل تری راہ مدت سے ہم دیکھتے ہیں یہی نسل نو کا طریقہ ہے لوگوں الگ زاویے سے قلم دیکھتے ہیں ہماری غزل ہو گئی کہکشاں نہ جہاں تک ستاروں کو ہم دیکھتے ہیں غزل لے رہی ہے نئی ایک کروٹ یہ دشینتؔ غالبؔ عدم دیکھتے ہے
is tarah ham ko jaa-ba-jaa kiije
اس طرح ہم کو جا بہ جا کیجے اپنی یادوں میں مبتلا کیجے سب ہی مطلب کے یار ہیں جاناں کوئی اپنا نہیں ہے کیا کیجے عشق والوں کی شرط ایسی ہے اپنی صورت کو چاند سا کیجے فون پر بات خوب کر لی ہے اب تو ملنے کا حوصلہ کیجے کوئی تو حل ضرور نکلے گا تلخ موضوع پہ مشورہ کیجے زندگی کہتے اک تماشا ہے اپنا کردار بس ادا کیجے ہم نے بس اک امید باندھی ہے کم سے کم آپ کچھ نیا کیجے مل کے ہجر و وصال سہنا ہے ہم سفر اپنا ہم نوا کیجے اپنا مفہوم آپ کو دوں گا آپ بس شیر کہہ دیا کیجے
agar vo haadisa phir se huaa to
اگر وہ حادثہ پھر سے ہوا تو میں تیرے عشق میں پھر پڑ گیا تو کہ اس کا روٹھنا بھی لازمی ہے منع لوں گا اگر ہوگا خفا تو مری الجھن سلجھتی جا رہی ہے دکھایا ہے تمہی نے راستہ تو یقیناً راز دل میں کھول دوں گا دیا اپنا جو اس نے واسطہ تو چلو کچھ دیر رو لیں ساتھ مل کر کوئی لمحہ خوشی کا مل گیا تو تجھے محفوظ کر لوں ذہن و دل میں ملا ہے تو کہیں پھر کھو گیا تو نیا رشتہ نبھانے کی طلب میں اگر ٹوٹا پرانا رابطہ تو کلیجے سے لگا کر رکھتے ہم بھی ہمیں وہ راز اپنے سونپتا تو نظرؔ تم زندگی سمجھے ہو جس کو فقط پانی کا ہو وہ بلبلہ تو
jiit kar bhi phir se haari zindagi
جیت کر بھی پھر سے ہاری زندگی پوچھئے مت کیوں گزاری زندگی اک مہاجن سب کے اوپر ہے کھڑا جس نے ہم کو دی ادھاری زندگی چنا کتھا لگ رہا ہے آئے دن پان بیڑی اور سپاری زندگی اک طرف محمود سا انداز ہے اک طرف مینا کماری زندگی ہو گئی ہے اس ہنیؔ سے بور جب پھر تو بس راحتؔ پکاری زندگی چین کی پھر نیند آئی قبر میں اپنے تن سے جب اتاری زندگی
churaae nazrein kabhi muD ke dekhtaa bhi hai
چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے کہ تیر ترچھی نگاہوں کے پھینکتا بھی ہے عجیب شخص ہے لکھ کر پھر اپنے دل کا ورق نہ جانے کون سی وحشت میں موڑتا بھی ہے تم اس پہ چل کے مری ذات میں چلے آؤ یہ پل صراط تمہارے لیے کھلا بھی ہے سمجھ کے سوچ کے آنا کہ اس محبت میں جہاں سکون ہے اس میں تو رت جگا بھی ہے میں اس حقیر کو آخر یہ کیسے سمجھاؤں فقط خطا ہی نہیں عشق معجزہ بھی ہے میں جس کو مار کے زندہ بھی رہ نہیں سکتا وہی ضمیر ہے میرا وہی خدا بھی ہے بڑے جتن سے ملا ہجر دائمی مجھ کو یہی مرض ہے مرا اور یہی دوا بھی ہے بھلے زمانے نے بھر دی ہوں تلخیاں مجھ میں مری زبان پہ اردو کا ذائقہ بھی ہے بڑے ہی غور سے سنتا ہے سارے شعر مگر غلط کہن پہ مجھے بڑھ کے ٹوکتا بھی ہے





