SHAWORDS
Nazeer Rampuri

Nazeer Rampuri

Nazeer Rampuri

Nazeer Rampuri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

وہ نہیں ہے تو زندگی کیسی اس اندھیرے میں روشنی کیسی دل کی بربادیوں کے ماتم پر زیر لب ہے ترے ہنسی کیسی کون رہ رہ کے یاد آتا ہے دل میں رہتی ہے بیکلی کیسی سوز دل نے بدن جلا ڈالا پھر مرے رخ پہ تازگی کیسی ہم سفر ہو کے کارواں لوٹا رہبری میں یہ رہزنی کیسی مجھ کو احساس آسماں نہ رہا چھاؤں زلفوں کی تھی گھنی کیسی مجھ سے برباد عشق پر اے دوست محو حیرت ہوں برہمی کیسی رسم دنیا عجیب ہے یارو غم ہی غم ہے یہاں خوشی کیسی دل کی دنیا تباہ کر ڈالی یہ شرارت یہ دل لگی کیسی کس کی نظروں میں آ گیا میں نظیرؔ میرے شعروں میں نغمگی کیسی

vo nahin hai to zindagi kaisi

غزل · Ghazal

غم ہے کھانے کو اشک پینے کو یہ بھی کم کیا ہے اپنے جینے کو دل میں ہرگز نہ رکھئے کینے کو اور بھی غم بہت ہیں جینے کو اپنے دل میں چھپائے پھرتا ہوں میں ترے درد کے دفینے کو جس کو کہتی ہے اشک غم دنیا کوئی دیکھے تو اس نگینے کو موج در موج آ رہی ہے صدا ڈوب جانے دو اب سفینے کو لاگ میں ہے لگاؤ کا انداز کون سمجھے گا اس قرینے کو سوچتا ہوں کہ کس سے دوں تشبیہ اس جبیں پر حسیں پسینے کو عشق نے کر دیا ہے مجھ کو نہال دیکھیے درد کے خزینے کو شکوہ برحق نظیرؔ یہ سوچو ٹھیس پہنچے گی آبگینے کو

gham hai khaane ko ashk piine ko

غزل · Ghazal

کھل گیا شاید بھرم اے دل جنوں کے راز کا بدلا بدلا سا نظر آتا ہے رخ دم ساز کا گونجتی ہے اب بھی کانوں میں صدائے بازگشت ٹوٹنا دل کا تھا اک نغمہ شکستہ ساز کا ماہ و انجم میں بھی اس کا حسن جلوہ ریز ہے آفتاب اک عکس ہے حسن کرشمہ ساز کا اک پری خانہ ہے یہ شہر حسیں لیکن یہاں کوئی چہرہ بھی نظر آیا نہ اس انداز کا کس قدر رنگیں ہے ترتیب کتاب زندگی اس میں افسانہ ہے شاید تیرے حسن و ناز کا شوخیاں پھولوں سے جب کرنے لگی باد سحر بارہا دھوکہ ہوا ہے آپ کی آواز کا اپنا حرف آرزو بھی کیا قیامت ہے نظیرؔ داستاں در داستاں ہے حرف حرف اس راز کا

khul gayaa shaayad bharam ai dil junun ke raaz kaa

غزل · Ghazal

ہجر کی شب میں بیاں کس سے میں روداد کروں ان کا پردہ بھی رکھوں اپنی بھی فریاد کروں آہ و نالہ نہ کروں اور نہ فریاد کروں سوچتا ہوں میں انہیں کس طرح اب یاد کروں محفل غیر میں وہ مجھ کو ملیں تو اے دل کس طرح ذکر ترا اے دل ناشاد کروں ماسوا تیرے نظر میں کوئی جچتا ہی نہیں خانۂ دل میں تجھے کیوں نہ میں آباد کروں زخم ہی زخم محبت ہیں مرے دل میں اگر سوچتا ہوں کہ بیاں کیسے یہ روداد کروں دل ازل ہی سے ہے مائل جو حسینوں کی طرف کیوں محبت کے گھروندوں کو میں برباد کروں چرخ بے مہر سے کم تو بھی نہیں ہے ظالم آشیاں کیسے حوالے ترے صیاد کروں کیسی مشکل سی ہے مشکل یہ نہ پوچھوں مجھ سے کس طرح ذہن پریشاں کو میں آزاد کروں شب کی تنہائی میں اکثر یہی سوچا ہے نظیرؔ یاد کر کر کے تجھے دل کو تو اب شاد کروں

hijr ki shab mein bayaan kis se main rudaad karun

غزل · Ghazal

زخم الفت عیاں نہیں ہوتا آنکھ سے خوں رواں نہیں ہوتا حسن کو صرف وہم ہے ورنہ عشق تو بد گماں نہیں ہوتا کوئی منزل بھلا قدم چومے عزم جب تک جواں نہیں ہوتا دیکھیے تو نقاب الٹ کے ذرا چاند کب تک عیاں نہیں ہوتا دیکھ کر غمزدہ سے کچھ چہرے درد دل کیوں عیاں نہیں ہوتا کوہ و صحرا ہو دشت ایمن ہو گزر اپنا کہاں نہیں ہوتا پھول کیسے وہاں نہ خار لگیں ذکر تیرا جہاں نہیں ہوتا میں تو کیا دل بھی میرا اس کا ہے جو کبھی مہرباں نہیں ہوتا زور طوفاں ہے دور ساحل ہے ناخدا مہرباں نہیں ہوتا رازداں کس کو کس طرح سمجھوں راز دل تو بیاں نہیں ہوتا شعریت شعر میں ہو کیسے نظیرؔ ذہن جب تک رواں نہیں ہوتا

zakhm-e-ulfat ayaan nahin hotaa

Similar Poets