SHAWORDS
Nazim Jafri

Nazim Jafri

Nazim Jafri

Nazim Jafri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

یہ اور بات ہے بد نامیوں کے گھر میں رہا یہی بہت ہے کہ میں آپ کی نظر میں رہا نہ راستوں کا پتہ تھا نہ منزلیں معلوم سفر تمام ہوا اور میں سفر میں رہا کسی کی زلف کا سایہ کہاں نصیب ہوا تمام عمر سلگتی سی دوپہر میں رہا ہزاروں قافلے منزل پہ جا کے لوٹ آئے میں سنگ میل کی مانند رہ گزر میں رہا وہ جس نے رکھ دئے دشمن کے سامنے ہتھیار امیر فوج کی فہرست معتبر میں رہا خود اپنے جسم کی پرچھائیوں میں سو جاؤ خزاں کا دور ہے سایہ کہاں شجر میں رہا قدم قدم پہ لگی ٹھیس آبگینوں کو خیال خاطر احباب سیم و زر میں رہا

ye aur baat hai bad-naamiyon ke ghar mein rahaa

1 views

غزل · Ghazal

نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں ہر ایک بات پہ خاموش رہ نہیں سکتے عزیزو ہم بھی تو منہ میں زبان رکھتے ہیں بزرگ دے کے گئے تھے جسے وراثت میں وہی مزاج وہی آن بان رکھتے ہیں زمانہ سیکھ لے ہم سے فن سپہ گیری ہنسی کے تیر لبوں کی کمان رکھتے ہیں شکست پائی ہے جس سے ہر ایک دریا نے لبوں پہ پیاس کی ایسی چٹان رکھتے ہیں بلندیاں ہیں عبارت انہیں پرندوں سے جو آسمان سے اونچی اڑان رکھتے ہیں بس اتنی بات پہ خائف ہیں گلستاں والے قفس نصیب بڑا خاندان رکھتے ہیں

na koi saaya na koi makaan rakhte hain

غزل · Ghazal

خط اس نے زمانہ ہوا لکھا بھی نہیں ہے وہ روٹھ گیا مجھ سے ہو ایسا بھی نہیں ہے کیوں تلخ بتایا ہے اسے حضرت واعظ جس مے کو کبھی آپ نے چکھا بھی نہیں ہے وہ شخص ہوا ہے مری بستی کا محافظ جس شخص کی تقدیر میں صحرا بھی نہیں ہے اچھا ہوا فنکاروں نے دوکان بڑھا دی اس شہر میں اب دیدۂ بینا بھی نہیں ہے جاتے ہیں کہاں اٹھ کے ذرا بیٹھیے صاحب جی بھر کے ابھی آپ کو دیکھا بھی نہیں ہے ہر راہ میں روشن ہیں چراغوں کی قطاریں یہ غور طلب ہے کہ اجالا بھی نہیں ہے احباب مرے جس طرح پیش آئے ہیں مجھ سے دشمن کے لئے میں نے تو سوچا بھی نہیں ہے یہ حادثے جائیں گے کہاں چھوڑ کے مجھ کو ان کا تو کوئی اور ٹھکانا بھی نہیں ہے

khat us ne zamaana huaa likkhaa bhi nahin hai

غزل · Ghazal

ہر ایک دور میں حق کے نقیب ہیں ہم لوگ قسم خدا کی بڑے خوش نصیب ہیں ہم لوگ یہ اور بات ہم اس کو رفیق سمجھے تھے یہ اور بات وہ سمجھا رقیب ہیں ہم لوگ زبان کاٹ نہ لے شب کا شہر یار کہیں خطا یہ ہے کہ سحر کے خطیب ہیں ہم لوگ ہمارے پاس انا لا زوال دولت ہے سمجھ رہا ہے زمانہ غریب ہیں لوگ ہمارا نام شہیدوں کی صف میں شامل ہے فراز دار سے اتنے قریب ہیں ہم لوگ ہمی ہیں صاحب سجادۂ قلم ناظمؔ ادب سے سر کو جھکاؤ ادیب ہیں ہم لوگ

har ek daur mein haq ke naqib hain ham log

غزل · Ghazal

پڑھا تھا جس کو مقدس کتاب کی صورت حرام ہو گیا ہم پر شراب کی صورت خزاں میں جن کو چنا تھا وہ ایک اک تنکا بکھر گیا ہے بہاروں میں خواب کی صورت ہمارے سر کی ہے معراج نوک نیزہ پر بلندیاں ہی رہیں آفتاب کی صورت سجی ہے دوش پہ اپنے قبائے گل بدنی کھلے ہیں زخم بدن پر گلاب کی صورت تمہارے شہر کی گلیوں میں زندگی کا فسوں اتر گیا کسی موتی کی آب کی صورت ہر ایک چیز ہم ان کے حضور ہار کے بھی پلٹ کے آئے کسی کامیاب کی صورت پڑھو تو غور سے میرا نوشتۂ ہستی تمہارے نام ہے اک انتساب کی صورت اندھیری رات میں جب نکلے میکدے سے شیخ چلے حرم کو مجسم ثواب کی صورت

paDhaa thaa jis ko muqaddas kitaab ki surat

Similar Poets