SHAWORDS
Nazim Naqvi

Nazim Naqvi

Nazim Naqvi

Nazim Naqvi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

har ek shai se mohabbat ki rishta-daari rakh

ہر ایک شے سے محبت کی رشتہ داری رکھ اب اس کو جنگ سمجھ اور جنگ جاری رکھ نہ جانے کس کو وہ اپنا سمجھ کے اپنا لیں نظر کو دل کو تمنا کو باری باری رکھ اگر تمہاری ہے تنہا تو اس کو لے جاؤ اگر ہے ساجھی یہ دنیا تو ساجھیداری رکھ نہ سمجھیں اپنا مگر غیر تو نہ سمجھیں لوگ اب اپنے آپ میں اتنی تو انکساری رکھ یہی سے خواب جنم لیں گے پھر نئے ناظمؔ لپٹ کے نیند سے آنکھوں کے پاؤں بھاری رکھ

غزل · Ghazal

vafaa karte use dekhaa nahin hai

وفا کرتے اسے دیکھا نہیں ہے مگر وہ بے وفا لگتا نہیں ہے دل برباد تجھ کو کیا ہوا ہے سرائے میں کوئی بستا نہیں ہے اسے پتھر بنا دیتی ہے دنیا جو دریا ہے مگر بہتا نہیں ہے یہ دنیا پھر نمایاں ہو رہی ہے اندھیرا عمر بھر رہتا نہیں ہے مرا ہمدرد ہے آئینہ ناظمؔ میں روتا ہوں تو یہ ہنستا نہیں ہے

غزل · Ghazal

saaraa qissa tamaam kar liije

سارا قصہ تمام کر لیجے آپ پہلے سلام کر لیجے نفرتوں سے بھری ہے یہ دنیا دل کے اندر قیام کر لیجے ہم بھی تو اس خدا کے بندے ہیں ہم سے بھی رام رام کر لیجے اک طریقہ ہے جنگ رکنے کا جنگ خود پہ حرام کر لیجے مولوی آسماں کی کہتا ہے آپ دنیا کے کام کر لیجے

غزل · Ghazal

shahr meri majburi gaanv meri aadat hai

شہر میری مجبوری گاؤں میری عادت ہے ایک سانحہ مجھ پر اک مری وراثت ہے یہ بھی اک کرشمہ ہے بیسویں صدی تیرا موت کے شکنجے میں زندگی سلامت ہے پھر انیسؔ ممبر پر مرثیہ پڑھیں آ کر کربلا یہ دنیا ہے ہر گھڑی شہادت ہے جیسے چاہے جی لیجے پھینکیے یا پی لیجے زندگی تو ہر گھر میں چار دن کی مہلت ہے وقت کے بدلنے سے دل کہاں بدلتے ہیں آپ سے محبت تھی آپ سے محبت ہے مسکرا کے کھل جانا کھل کے پھر بکھر جانا ان دنوں تو پھولوں میں آپ سی شرارت ہے ایک صدا یہ آتی ہے میری خواب گاہوں میں دل کو چین آ جانا درد کی علامت ہے تو گیا نمازوں میں میں گیا جوازوں میں وہ تری عبادت تھی یہ مری عبادت ہے میری رائے پوچھو تو یہ بری بھلی دنیا آپ جتنے اچھے ہیں اتنی خوبصورت ہے

غزل · Ghazal

dekhiye kis ko raas aate hain

دیکھیے کس کو راس آتے ہیں اچھے دن سب کے پاس آتے ہیں ایک بھی کام کا نہیں ہوتا فون دن میں پچاس آتے ہیں کل تو وعدہ بھرے گلاس کا تھا آج خالی گلاس آتے ہیں تم کو بدلاؤ چاہئے ٹھہرو ہم بدل کر لباس آتے ہیں پہلے بنتی ہے سیتا اپرادھی بعد میں تلسی داس آتے ہیں ساری دنیا سے مل ملا کر ہم آخرش اپنے پاس آتے ہیں شام ہوتی ہے تب کہیں جا کر واپس اپنے حواس آتے ہیں جانے کیا ہو گیا ہے ناظمؔ کو ہر جگہ وہ اداس آتے ہیں

Similar Poets