SHAWORDS
N

Nazish Ansari

Nazish Ansari

Nazish Ansari

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

جو رات بھر ترے خوابوں میں گھومتا ہوگا وہ میں نہیں مری صورت کا دوسرا ہوگا حقیقتوں کا مجھے تجربہ نہیں میں چلا کوئی سراب مری راہ دیکھتا ہوگا ہماری قبر کا کوئی نشاں نہیں پھر بھی ہماری قبر پر اک شخص رو رہا ہوگا جنوں بنے تو شرارہ وفا بنے تو گلاب وہ دل کے بارے میں اتنا تو جانتا ہوگا تمہارے ہاتھ تمہیں کو ہلاک کر دیں گے ہمارے بعد تمہارا بھی فیصلہ ہوگا ہر ایک لمحہ ہے مصروف پھر بھی بے مقصد ہمارے عہد کا انجام جانے کیا ہوگا

jo raat bhar tire khvaabon mein ghumtaa hogaa

غزل · Ghazal

کبھی مجھ کو بھی میرا چہرہ دکھا مجھے میرا آئینہ کر اے خدا مرے گھر کی دیواریں ہٹ جائیں تو مرے گھر میں بھی آئے تازہ ہوا ہوئی شام آنکھوں کے آکاش سے صحیفے اترنے کا وقت آ گیا سمندر کی وہ العطش العطش وہ خالی گلاسوں سے سر پھوڑنا بڑے شہروں میں جانے کیوں ان دنوں بہت شور ہے میری تنہائی کا

kabhi mujh ko bhi meraa chehra dikhaa

غزل · Ghazal

نہ اور آگ کی فصلیں اگاؤ دھرتی پر سمندروں کے غلامو اب آؤ دھرتی پر ہمارے ہاتھوں نے کب اور کیوں بنائے ہیں اجاڑ قبروں کی مانند گھاؤ دھرتی پر میں خود ہی آؤں گا نیلاہٹوں کے دیس میں تم مری طلب میں بھٹکنے نہ آؤ دھرتی پر کسی طرح تو ہوں تاراج خواہشوں کے مکاں بہاؤ آگ کے دریا بہاؤ دھرتی پر زمانہ بیت گیا ماں کی گود کہتے ہوئے نئی نئی کوئی تہمت لگاؤ دھرتی پر

na aur aag ki faslein ugaao dharti par

غزل · Ghazal

دیس راون کا ہے سینے میں چھپا لو نہ مجھے میں کوئی رام نہیں گھر سے نکالو نہ مجھے در بدر کر کے صبا جانے کہاں لے جائے سونی گلیوں کی وراثت ہوں اچھالو نہ مجھے اس کے خنجر کی بہک بھی بڑی جاں لیوا ہے میں کہ کچھ بھی نہ سہی سامنے ڈالو نہ مجھے میں تماشہ نہیں اپنے لیے اتنا سمجھو پھر کبھی دیکھنا اے دیکھنے والو نہ مجھے خود کو محسوس کیے جانا عبادت سے سوا بہتا دریا ہوں سمندر میں تو ڈالو نہ مجھے

des raavan kaa hai siine mein chhupaa lo na mujhe

غزل · Ghazal

تھی جو دنیائے رنگ و بو تجھ سے اب لگے ہے لہو لہو تجھ سے تو کہ اٹھ کر کبھی کا جا بھی چکا میں کہ ہوں محو گفتگو تجھ سے میرے حرف و نوا میں تو زندہ سیکھا اظہار آرزو تجھ سے اب افق تک نظر نہیں جاتی دل کو تھی تیری جستجو تجھ سے اے مرے مجھ سے روٹھنے والے اب نہ بولوں گا بے وضو تجھ سے

thi jo duniyaa-e-rang-o-bu tujh se

غزل · Ghazal

ہماری طرح صدا اک اچھال کر دیکھو جواب کچھ نہ ملے گا سوال کر دیکھو حسین شب سے جو شرمندہ ہو کے ڈوب گیا ندی سے آج وہ سورج نکال کر دیکھو وہ اپنی ذات تھی جو ٹوٹی اور نہیں بکھری یہ آئنہ ہے اسے تم سنبھال کر دیکھو غریب دھوپ جو بکھری پڑی ہے کمرے میں سمیٹو اور نئے سورج میں ڈھال کر دیکھو میں روشنی ہوں اندھیرا ہوں درد ہوں کیا ہوں مرے وجود سے مجھ کو نکال کر دیکھو

hamaari tarah sadaa ik uchhaal kar dekho

Similar Poets