Nazish Sahsarami
Nazish Sahsarami
Nazish Sahsarami
Ghazalغزل
دل کی بربادی کا رونا اے غم ناکام کیا اس طرح درد محبت کو کریں بدنام کیا دشمن جاں بن گئی خود آگہی ورنہ بھلا میرا رشتہ روک سکتی شورش ایام کیا لذت مژگاں شعور غم کا درماں بن گئی ورنہ اپنا حوصلہ کیا مے کشی کیا جام کیا خود تو رنگا رنگ تصویریں بنائیں آپ نے میرے سر دھرتے ہیں پھر یہ آپ ہی الزام کیا کاروان دہر کو منزل بمنزل دیکھ آئے نازشؔ بدنام اپنی صبح کیا اور شام کیا
dil ki barbaadi kaa ronaa ai gham-e-naakaam kyaa
ہر عالم فریب نظر رنگ رنگ ہے انساں بقدر فکر بڑا حیلہ ساز ہے دشت بلا دراز زہے چاک دامنی دیوانگاں خدائے جنوں کارساز ہے رسم و رہ مجاز کے آداب دیکھیے پیدا قدم قدم پہ حد امتیاز ہے رکھنا ہے پھونک پھونک سر رہ گزر قدم اے دوست گام گام نشیب و فراز ہے نازشؔ نا چھیڑ ساز جنوں اب سماں نہیں یاراں نہ سن سکیں گے حکایت دراز ہے
har aalam-e-fareb-e-nazar rang rang hai
دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں نگاہ شوق تو پابند اعتبار نہیں یہ چند روزہ بہاریں سدا بہار نہیں کہ ڈھلتی چھاؤں کا اے دوست اعتبار نہیں بدلتے رہتے ہیں یہ رنگ آسماں کی طرح نظر فروش سہاروں کا اعتبار نہیں تری نگاہ کے صدقے میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی رفیق نہیں کوئی غم گسار نہیں چمن میں راز چمن بن گیا ہے جو ہمدم وہی تو بلبل مرحوم کا مزار نہیں نہ چھین شام جنوں مجھ سے آسماں کہ مجھے ہوائے صبح چمن اب کے سازگار نہیں اسی سے پوچھو مری ہم سفر ہے یہ بجلی مرے جنوں کو زمانے کا انتظار نہیں وہ غم نصیب کہاں جائے کس کو اپنائے تری نگاہ کرم جس کی غم گسار نہیں
dil-e-hazin ko na maalum kyon qaraar nahin
لذت احساس غم سے دل کو بہلاتے رہے کچھ ادھورے خواب تھے رہ رہ کے یاد آتے رہے منزل غربت میں پیچھے رہ گئے ہشیار لوگ ہم دوانے تھے بگولوں میں بھی اتراتے رہے لٹنے والوں سے مزاج شام غربت پوچھئے ان کو کیا معلوم جو طوفاں سے کتراتے رہے رسم و راہ نو بہاراں کس قدر دلچسپ ہے کچھ کلی کھلتی رہی کچھ پھول مرجھاتے رہے کیا خبر رستے میں کس نے روپ کیا دھارا میاں مہرباں وقت سفر تو رنگ برساتے رہے رونے والے بیٹھے بیٹھے وقت کو رویا کئے چلنے والے آندھیوں میں بھی چلے جاتے رہے بھاگتے جاتے ہیں اب شام نظر سے دوردور مدتوں تک جو دھندلکے غم کو راس آتے رہے ہم تو ساری رات نازشؔ بزم میں تھے دم بخود لوگ انداز تغافل کی قسم کھاتے رہے
lazzat-e-ehsaas-e-gham se dil ko bahlaate rahe
میں دیار عشق کا راہ رو مجھے خوف شام بلا نہیں کسی راہبر پہ نظر نہیں کسی ہم سفر کا گلہ نہیں غم سازگار کا آئنہ نہ حرم نہ دیر نہ مے کدے کہ بھٹک رہا ہوں ادھر ادھر کہیں دل جلوں کا پتا نہیں یہ فریب لذت بے خودی یہ غریب شہر کی گم رہی شب تار کتنی دراز ہے کہیں دور تک بھی دیا نہیں یہ مزاج عشق یہ سرکشی کہ زہے نوازش آگہی میں حریف شام و سحر رہا مجھے وقت لوٹ سکا نہیں
main dayaar-e-ishq kaa raah-rau mujhe khauf-e-shaam-e-balaa nahin
حال پوچھے جو کوئی میرا بتا بھی نا سکوں کیا قیامت ہے کہ میں ہونٹ ہلا بھی نہ سکوں اف یہ مجبوری ایام کا عالم ہمدم رہ گزاران شب غم کو جگا بھی نہ سکوں اے جنوں حیف مری سوختہ سامانی پر وقت کو موت کی تعبیر بتا بھی نہ سکوں سوچتا ہوں روش خام پہ ماتم کر لوں بجلیاں آئیں تو سینے سے لگا بھی نہ سکوں ٹھہر جا گردش دوراں کہ میں ایسا تو نہیں برق کی زد یہ نشیمن جو بنا بھی نہ سکوں اب تو اللہ نگہباں ہے وفا کیشوں کا چوٹ کھائی ہے کچھ ایسی کہ دکھا بھی نہ سکوں دل شکستہ ہوں بہت گردش دوراں ہے مگر اس سے کٹ کر کوئی کاشانہ بنا بھی نہ سکوں کتنی مجبوری ہے اے دوست کہ غم خواروں کو غم ایام کی تفصیل بتا بھی نہ سکوں کتنی باتیں ہیں سنانے کی مگر اے نازشؔ ہائے چاہوں جو سنانا تو سنا بھی نہ سکوں
haal puchhe jo koi meraa bataa bhi na sakun





