SHAWORDS
Neelu Megh Neelam

Neelu Megh Neelam

Neelu Megh Neelam

Neelu Megh Neelam

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

غم سے جو آشنا نہیں ہوتا وہ کسی کام کا نہیں ہوتا قوت صاف گوئی ہے ورنہ آئنہ آئنہ نہیں ہوتا جب مرے روبرو وہ ہوتے ہیں مجھ کو اپنا پتہ نہیں ہوتا آپ کو ڈھونڈھتے ہیں اس میں بھی جو کوئی آپ سا نہیں ہوتا قربتیں قربتیں نہیں ہوتیں فاصلہ فاصلہ نہیں ہوتا کیوں کسی کی مثال دیتے ہو ہر کوئی ایک سا نہیں ہوتا در بہ در سر کو وہ جھکاتے ہیں جن کا کوئی خدا نہیں ہوتا وقت نیلمؔ بڑا بناتا ہے آدمی خود بڑا نہیں ہوتا

gham se jo aashnaa nahin hotaa

غزل · Ghazal

سب کی خیر مناؤ بابا خنجر مت چمکاؤ بابا دل تو ہے اک ناؤ بابا تم مانجھی بن جاؤ بابا غم تو انساں کی قسمت ہے غم سے مت گھبراؤ بابا میری آنکھیں سونی سونی تم کاجل بن جاؤ بابا تم کو نظریں ڈھونڈ رہی ہیں آنکھوں میں چھپ جاؤ بابا کلیاں کیسے پھول بنیں گی کچھ مجھ کو سمجھاؤ بابا پیاسی دھرتی چیخ رہی ہے تم بادل بن جاؤ بابا پھر پردیسی لوٹ کے آئے جھومو ناچو گاؤ بابا گھر والوں کے آنسو دیکھو ساغر مت چھلکاؤ بابا پتھر ہوں لیکن نیلمؔ ہوں مجھ کو مت ٹھکراؤ بابا

sab ki khair manaao baabaa

غزل · Ghazal

ٹھہرے پانی میں یہ مہتاب سا رکھا کیا ہے آپ کی آنکھ میں سیلاب سا رکھا کیا ہے میری تقدیر میں تو کوئی بھی تعبیر نہیں پھر یہ پلکوں پہ مری خواب سا رکھا کیا ہے میں نے موتی کے ذخیرے تو بہت دیکھے ہیں سامنے گوہر نایاب سا رکھا کیا ہے اے مرے ڈوبتے سورج یہ بتا دے مجھ کو تیرے دامن میں یہ مہتاب سا رکھا کیا ہے میں نے دیکھی ہیں زمانے کی شرابیں نیلمؔ تیرے شیشے میں یہ تیزاب سا رکھا کیا ہے

Thahre paani mein ye mahtaab saa rakkhaa kyaa hai

غزل · Ghazal

فٹ پاتھ پہ لیٹے ہیں خود اپنا بدن اوڑھے دھرتی کے بچھونے پر تاروں کا گگن اوڑھے سایہ ہے نہ ہمسایہ منزل ہے نہ رستہ ہے کانٹوں کی صدارت میں بیٹھے ہیں چمن اوڑھے پھر ان کے تغافل سے آنکھوں میں نمی آئی جیتے رہے ہم اب تک وعدوں کا کفن اوڑھے حالات نے ہر شے کی تاثیر بدل ڈالی سنتے ہیں کہ شبنم بھی گرتی ہے اگن اوڑھے بادل ہے نہ بجلی ہے موسم نہ پرندے ہیں روتی رہی ویرانی ہر سمت گہن اوڑھے یادوں کے سفر سے جب لوٹی تو گماں گزرا ہے میرا بدن جیسے صدیوں کی تھکن اوڑھے اب اپنی تباہی کا کیا اس سے گلہ نیلمؔ ہم کو ملا اندھیارا سورج کی کرن اوڑھے

fōtpath pe leTe hain khud apnaa badan oDhe

غزل · Ghazal

دل کو آئینہ وار کرتے رہے ہم خزاں کو بہار کرتے رہے اور کرتے بھی کیا محبت میں رات بھر انتظار کرتے رہے جس سے کوئی غرض نہیں ہم کو اس پہ خود کو نثار کرتے رہے ہم تو یہ سوچ کر پشیماں ہیں کیوں ترا اعتبار کرتے رہے وہ رہے محو خواب ہجر کی شب ہم ستارے شمار کرتے رہے صحن‌ گلشن میں رت میں پھولوں کی انتظار بہار کرتے رہے پیار کیا ہے جنون ہے نیلمؔ ہم قبا تار تار کرتے رہے

dil ko aaina-vaar karte rahe

غزل · Ghazal

دل و نظر کو نہ کچھ اور سوگوار کریں تم اپنی یادوں سے کہہ دو نہ بے قرار کریں کبھی کسی کی طرف ہے کبھی کسی کی طرف نگاہ شوق ترا کیسے اعتبار کریں جو لوگ ڈھونڈ رہے ہیں گہر وفاؤں کے انہیں بتاؤ غریبوں سے پہلے پیار کریں جو شاعری کو سیاست بنائے بیٹھے ہیں خدا کے واسطے کچھ اور کاروبار کریں بہت لطیف ہے اردو غزل کا پیراہن کرخت لہجے سے اس کو نہ تار تار کریں تمام اہل ادب سے یہ عرض ہے نیلم وہ خادمان ادب میں مرا شمار کریں

dil-o-nazar ko na kuchh aur sogvaar karein

Similar Poets