
Neha Nazakat
Neha Nazakat
Neha Nazakat
Ghazalغزل
دنیا ہے خاکسار مرے ساتھ ساتھ چل یہ بار غم اتار مرے ساتھ ساتھ چل کچھ پل کی کشمکش ہے سر راہ صبر رکھ چھٹ جائے گا غبار مرے ساتھ ساتھ چل پھر یہ نہ ہو کہ بعد میں افسوس ہو تجھے اب کر نہ انتظار مرے ساتھ ساتھ چل ہر سمت تیرگی ہے یہ سنسان رہ گزر ہے اجنبی دیار مرے ساتھ ساتھ چل میں تیری ہم سفر ہوں کوئی رہنما نہیں کر مجھ پہ اعتبار مرے ساتھ ساتھ چل
duniyaa hai khaaksaar mire saath-saath chal
جسم روتا ہے روح گاتی ہے اب تری یاد کیوں ستاتی ہے یہ ترے زخم یوں نہیں بھرتے تو مسلسل جو چوٹ کھاتی ہے بے سبب آنکھ اس کی بھرتی ہے وہ بنا بات مسکراتی ہے اس سے کہہ دو کہ عشق مرہم ہے کیسے چھونے سے چھٹپٹاتی ہے زندگی رائیگاں مگر پھر بھی سانس یہ ہے کہ چلتی جاتی ہے شکر مانو کہ اک عدد لڑکی اپنا دکھڑا تمہیں سناتی ہے یار رادھا ہے شیام ہرجائی تو عبث ٹیسوئے بہاتی ہے
jism rotaa hai ruuh gaati hai
لوگ ایسے بھی غم شناس نہیں دوست ہو کر بھی دل کے پاس نہیں فکر اتنی بھی مت کرو اس کی سرپھرا ہے وہ محو یاس نہیں عشق میں مات کھا کے ہنستی ہوں رائیگاں ہوں مگر اداس نہیں دل طلب گار بھی اسی کا ہے ایک وہ شئے جو آس پاس نہیں زیست صحرا میں راہ ملتی ہے زندگی دشت بے قیاس نہیں
log aise bhi gham-shanaas nahin





