SHAWORDS
Niddhi Gupta Kashish

Niddhi Gupta Kashish

Niddhi Gupta Kashish

Niddhi Gupta Kashish

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

وہ ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے اور ہم سپنے سنجوتے رہ گئے دل بچھا کے ہم کسی کی راہ میں صرف اپنا وقت کھوتے رہ گئے پھول بھی گلشن کے سب مرجھا گئے اور ہم بوٹے ہی بوتے رہ گئے پیار کا ساگر سمٹ کر رہ گیا ہم تو بس پلکیں بھگوتے رہ گئے چاند نے باندھی تھی ڈوری غیر سے اور ہم موتی پروتے رہ گئے یہ کششؔ جن کے لیے جگتی رہی ساتھ وہ غیروں کے سوتے رہ گئے

vo hamaare hote hote rah gae

1 views

غزل · Ghazal

چھوڑ کر جنت سی گلیاں گاؤں سے آنا پڑا ایک روٹی کے لیے ہی اتنا جرمانہ پڑا راس آتی تھی نہ ماں کی روٹیاں گھی سے لگی ہائے اس پردیش میں پھر بھوکا سو جانا پڑا سا رےگا ماپا دھانی سا سانی دھا پا ماگ رے ساز گر روٹھے جو مطرب سرگمیں گانا پڑا روح دے گی ساتھ تیرا جسم بس کار ہوس وہ سمجھتا ہی نہیں تھا اس کو سمجھانا پڑا چاہتوں کی آس میں ڈھونڈھا زمانہ اے کششؔ تیری خاطر دوسرے لوگوں کو ٹھکرانا پڑا

chhoD kar jannat si galiyaan gaanv se aanaa paDaa

1 views

غزل · Ghazal

سارے ہی زندگی کے فسانے بدل گئے موسم کی طرح دوست پرانے بدل گئے سسکا ہے گھر کی چھت پہ پرندہ بھی رات بھر کھائے جہاں نوالے گھرانے بدل گئے شانوں پہ جس پتا نے دکھایا اسے جہاں بٹیا بڑی ہوئی تو ٹھکانے بدل گئے پینسٹھ کی عمر میں بھی چڑھی ہیں جوانیاں آب و ہوا کے ساتھ سیانے بدل گئے نکلی ہے قید اشک سے مدت میں یہ کششؔ اس مرحلے کے بعد زمانے بدل گئے

saare hi zindagi ke fasaane badal gae

غزل · Ghazal

وہ ضد پے رہا ہے جھکانے پے حسنیٰ ہمیں تو رہے ہیں نشانے پے حسنیٰ نگاہوں کا تیرے قہر ہی قہر ہے ذرا تو رحم کر زمانے پہ حسنیٰ جنہیں یاد کرکے صدیاں گنوا دی لگے ہیں ہمیں وہ بھلانے پہ حسنیٰ پتا چاہتا ہے محض چند سانسیں ہیں بیٹوں کی نظریں خزانے پہ حسنیٰ محبت کی راہوں میں سب کچھ مٹا کر کششؔ ہے اڑی سر کٹانے کو حسنیٰ

vo zid pe rahaa hai jhukaane pe husnaa

غزل · Ghazal

میری داستان غزل نے اب میرے غم سبھی کو بتا دئے جو چھپا رہی تھی میں اب تلک وہی راز دل لو دکھا دئے بھلا گھومتی میں کہاں کہاں لیے زخم دل تیرے نام کے میرے اشک چشم چراغ نے تیرے سارے خط ہی جلا دئے ہے بہار گم ہے فضا بھی چپ ہیں چمن سے دور وہ تتلیاں کہ ترقیوں نے دیار سے وہ حسین گاؤں مٹا دئے میں تو بانٹتی رہی پوتھیاں جو لکھیں تھیں تیرے وصال میں کہ اداسیوں کے حساب میں تو نے کیوں مکان جلا دئے کئی بار سوچ کے یوں لگا میرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہے جو حقیقتوں کے دیے جلے تو محبتوں کے بجھا دئے کہیں کھو گئی ہے جو سانس ہی تو دھڑک کے دل یہ کرے بھی کیا کسی بے وفا کی کششؔ کے غم رہ با وفا پہ بھلا دئے

meri daastaan-e-ghazal ne ab mere gham sabhi ko bataa diye

Similar Poets