
Nighat Naseem
Nighat Naseem
Nighat Naseem
Ghazalغزل
hamaare azm ke baais tumhaaraa ishq kaamil hai
ہمارے عزم کے باعث تمہارا عشق کامل ہے وگرنہ دل تو سینے میں فقط پتھر کی اک سل ہے عجب سی بات کہہ دی ہے تمہیں شاید گراں گزرے تری دھڑکن سے سرگوشی مری سانسوں کی منزل ہے سبب گلشن میں نہ جانے کا میں اب منکشف کر دوں مرے شعروں میں تیری گفتگو کی خوشبو شامل ہے میں اپنی بند آنکھوں سے بھی تم کو دیکھ سکتی ہوں مجھے بھولا نہیں اب تک ترے سینے پہ جو تل ہے ذرا کھولو تو بند مٹھی ہوا تھوڑی سی آنے دو تری مٹھی میں نگہتؔ کا جو یہ ٹھہرا ہوا دل ہے
vo khvaab thaa jo taabir kar diyaa hai mujhe
وہ خواب تھا جو تعبیر کر دیا ہے مجھے اندھیرے رستوں میں تنویر کر دیا ہے مجھے میں لخت لخت تھی جب تک نہ وہ ملا تھا مجھے وہ شخص جس نے کہ تعمیر کر دیا ہے مجھے مرے وجود کا ہر سانس اس کے نام ہوا وہ رانجھا من کا مرے ہیر کر دیا ہے مجھے مرے سوا نہ کسی کو ملا یہ فیض نظر عجب کہ مالک تقدیر کر دیا ہے مجھے خدائے عشق و محبت غرور نگہتؔ دیکھ نگاہ یار نے تصویر کر دیا ہے مجھے
dard sahne ki baat kartaa hai
درد سہنے کی بات کرتا ہے وہ مجھے آشنائے ذات کرتا ہے بوسہ دیتا ہے میرے ہاتھوں کو موت کو یوں حیات کرتا ہے سامنے بیٹھ کر جو بولتا ہے صرف اپنی ہی بات کرتا ہے پوچھتی ہوں میں اپنے آپ سے یہ کیسے دن کو وہ رات کرتا ہے اس کی مٹھی میں بند سانس میری وسعت کائنات کرتا ہے کاسۂ چشم اس کا بھرتا نہیں یوں تو ذکر نجات کرتا ہے جب بھی کرتا ہے عشق کی باتیں وارث شش جہات کرتا ہے عکس کر کے مجھے وہ شخص نسیمؔ رات دن مجھ سے بات کرتا ہے
kisi jahaan mein huun teraa khayaal rakhti huun
کسی جہاں میں ہوں تیرا خیال رکھتی ہوں ترے خیال سے دل کو اجال رکھتی ہوں نگہ کی تشنگی ایسی کہ سیر ہوتی نہیں میں تشنہ آنکھوں میں تیرا جمال رکھتی ہوں میں تیرے فیل کو ماروں گی اپنے پیادے سے بساط وقت پہ خود اپنی چال رکھتی ہوں یہ میرے شعر جو ہر ایک کی زباں پر ہیں میں اپنے شعروں میں تیرا کمال رکھتی ہوں میں تیری آنکھوں سے اپنا وجود دیکھتی ہوں ترے لبوں کی ہنسی بھی سنبھال رکھتی ہوں محاذ عشق پہ قربت کی جنگ لڑتے ہوئے میں فرقتوں کے مماثل وصال رکھتی ہوں غنیم جان سے نگہتؔ مقابلے کے لئے میں اپنے سامنے تیری مثال رکھتی ہوں
us ne khvaab mein mujh ko jab do kanval diye
اس نے خواب میں مجھ کو جب دو کنول دیے جیون کی ندیا کے دھارے بدل دیے ان پھولوں کی اب بھی یاد ستاتی ہے پھول جو اپنے ہاتھوں خود ہی مسل دیے میں نے جھیل کنارے اس کا نام لیا جھیل نے ہنس کے نیلے موتی اگل دیے سارے ارماں کب نکلے ہیں سینے سے ایسے بھی ہیں سینے میں جو مچل دیے ایسے بھی تھے لوگ جو گر کے سنبھلے کم ہم نے ٹھوکر کھائی اور پھر سنبھل دیے اس دکھ نے رکھا ہے مجھ کو ابد تلک جس دکھ نے ہاں مجھ کو جام ازل دیے اس نے ہنس کر مجھ سے میری باتیں کیں لمحے بھر میں سارے موسم بدل دیے اس سے نگہتؔ قائم میرا پیار رہے جس نے یہ اشعار بہ صورت غزل دیے
TukDon se apne dil ke judaa ho gai hai maan
ٹکڑوں سے اپنے دل کے جدا ہو گئی ہے ماں یوں لگ رہا ہے جیسے بہت رو گئی ہے ماں صورت کو تیری دیکھنا ممکن نہیں رہا یہ بیج کیا جدائی کا تو بو گئی ہے ماں اہل ادب بے حس ہیں خدایا دہائی ہے ان کے گنہ کا بوجھ مگر ڈھو گئی ہے ماں بچے یہ پوچھتے ہیں خلاؤں میں گھور کر کل تک یہاں تھی آج کہاں کھو گئی ہے ماں فرزانہ تیرے بچوں کو نگہتؔ بتائے گی تھک کر مسافتوں سے سنو سو گئی ہے ماں





