SHAWORDS
Nihal Rizvi Lucknowi

Nihal Rizvi Lucknowi

Nihal Rizvi Lucknowi

Nihal Rizvi Lucknowi

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

ham un se chhuT ke yuun zindagi ke saath rahe

ہم ان سے چھوٹ کے یوں زندگی کے ساتھ رہے کہ جیسے کوئی کسی اجنبی کے ساتھ رہے بڑے مزے کی ہے دونوں کی داستان حیات ہم ان کے ساتھ رہے وہ خودی کے ساتھ رہے اس انجمن میں جہاں سب حریف الفت تھے ہم اہل عشق بڑی بے بسی کے ساتھ رہے جہاں جہاں میں گیا وہ وہاں وہاں مرے ساتھ رہے ضرور مگر بے رخی کے ساتھ رہے ترے کرم کے تری التفات کے جلوے مرے جہاں میں نہایت کمی کے ساتھ رہے وہی سمجھتے تھے مفہوم زندگی شاید بہ قید ہوش جو دیوانگی کے ساتھ رہے متاع عشرت بے نام کی طلب میں نہالؔ غموں کے شہر میں بھی ہم خوشی کے ساتھ رہے

غزل · Ghazal

mohabbat mein kabhi taskin-e-dil paai nahin jaati

محبت میں کبھی تسکین دل پائی نہیں جاتی طبیعت خود بہل جاتی ہے بہلائی نہیں جاتی کسی سے بے وفائی پر بھی امید وفا رکھنا یہ وہ ٹھوکر ہے جو ہر ایک سے کھائی نہیں جاتی محبت میں غلط فہمی کا ہونا لازمی شے ہے غلط فہمی وہ گتھی ہے جو سلجھائی نہیں جاتی تری ہمدردیوں کا شکریہ اے پوچھنے والے مگر کچھ بات ایسی ہے جو دہرائی نہیں جاتی محبت دو دلوں کے درمیاں پیدا جو کرتی ہے وہ گتھی خود سلجھ جاتی ہے سلجھائی نہیں جاتی ابھی تھا سامنے کوئی ابھی نظروں سے اوجھل ہے ابھی دنیا جہاں پر تھی وہاں پائی نہیں جاتی جہاں میں ہوں وہاں ہر شے میں ان کا حسن ہے لیکن جہاں وہ ہیں وہاں تک میری رسوائی نہیں جاتی محبت میں بلند و پست کا احساس کیا معنی محبت امتیازی شکل میں لائی نہیں جاتی نہالؔ اب تو کوئی ہر وقت رہتا ہے نگاہوں میں نہیں جاتی کسی کی جلوہ آرائی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

begaana-e-har-raahat-o-gham tum ne kiyaa hai

بیگانہ ہر راحت و غم تم نے کیا ہے مجھ پر یہ کرم بھی بقسم تم نے کیا ہے شائستۂ آداب محبت جو نہیں تھے گمراہ انہیں شیخ حرم تم نے کیا ہے دیدار کے پیاسوں سے جو کہہ دوں تو بگڑ جائیں بدنام محبت کا بھرم تم نے کیا ہے تھوڑا سا الگ ہٹ کے رہ عام کی حد سے سنتا ہوں کہ اکثر مرا غم تم نے کیا ہے ربط نگہ دل کا خلاصہ جسے کہئے اکثر وہی افسانا رقم تم نے کیا ہے ہر مصلحت وقت کی چوکھٹ پہ جھکا کے انصاف کا خون اہل قلم تم نے کیا ہے زاہد سے نہالؔ آج کوئی پوچھ لے اتنا سر کیوں در مے خانہ پہ خم تم نے کیا ہے

غزل · Ghazal

har ik nazar ko shuur-e-jamaal-e-yaar nahin

ہر اک نظر کو شعور جمال یار نہیں بہار اہل ہوس کے لئے بہار نہیں تغیرات کی منزل کا نام ہے دنیا یہاں خوشی کی طرح غم بھی پائیدار نہیں عجیب شے ہے محبت وہ سامنے ہیں مگر نظر کو پیاس بجھانے کا اختیار نہیں کلی کو پھول بناتا ہے اس کا حسن قبول بہار پھول بنانے کی ذمہ دار نہیں مرے لئے نہ پریشاں ہوں مے کدے والے شراب جام سے پینا مرا شعار نہیں بدل بدل کے نگاہوں کے زاویے تم نے مجھے وہ درد دیا ہے جو ناگوار نہیں طلب کو ترک طلب میں سمو چکا ہوں میں اب انتظار میں تلخیٔ انتظار نہیں مری نظر میں وہ معصوم پھول بھی ہیں نہالؔ چمن میں جن کو تبسم کا اختیار نہیں

غزل · Ghazal

sitam ko lutf jafaa ko vafaa banaa na sake

ستم کو لطف جفا کو وفا بنا نہ سکے تمہیں نے آگ لگائی تمہیں بجھا نہ سکے ہم ان کو ترک تعلق پہ بھی بھلا نہ سکے گرہ ہوا میں لگائی مگر لگا نہ سکے بڑے مزے کی ہے دونوں طرف کی مجبوری کوئی بلا نہ سکے کوئی پاس آ نہ سکے عجب روش ہے عجب انتظام گلشن ہے کوئی تو خوب ہنسے کوئی مسکرا نہ سکے شراب کیف شراب خوشی شراب سکوں نہ جانے پی نہ سکے ہم کہ وہ پلا نہ سکے ہر اضطراب کو ہم نے سکوں سے بدلا ہے وہ اور ہوں گے جو طوفاں کے ناز اٹھا نہ سکے حیات شبنم و عمر شمیم گل معلوم وہ نقش بن کہ زمانہ جسے مٹا نہ سکے بہت قریب سے دیکھا ہے ہم نے دنیا کو یہ پھول وہ ہے کسی کے جو کام آ نہ سکے مری پکار نے بیدار کر دیا ان کو تغیرات زمانہ جنہیں جگا نہ سکے میں ہر زباں کا بہی خواہ ہوں نہالؔ مگر یہ چاہتا ہوں کہ اردو پہ آنچ آ نہ سکے

غزل · Ghazal

yuun jaa rahaa huun qaafila-e-zindagi ke saath

یوں جا رہا ہوں قافلۂ زندگی کے ساتھ جس طرح اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ دنیا میں پا رہا ہوں نہایت کمی کے ساتھ وہ ربط آدمی کو جو ہے آدمی کے ساتھ اب اس کو مصلحت کے سوا اور کیا کہیں دیکھا ہمیں کسی نے مگر بے رخی کے ساتھ وہ وقت آ گیا ہے کہ اللہ کی پناہ ہمدردیاں نہیں ہیں کسی کو کسی کے ساتھ مجبوریٔ مذاق محبت نہ پوچھئے بربادیوں سے کھیل رہا ہوں خوشی کے ساتھ ایسے بھی عہد نو میں شب و روز آئے ہیں انسانیت لٹی ہے بڑی بے کسی کے ساتھ سجدے تمام عمر کے بے کار ہیں نہالؔ جب تک خلوص قلب نہ ہو بندگی کے ساتھ

Similar Poets