Nikhat Yasmeen Gul
Nikhat Yasmeen Gul
Nikhat Yasmeen Gul
Ghazalغزل
subhein kirnein thaa main, phir bhi shaamein phir bhi raat
صبحیں کرنیں تھا میں، پھر بھی شامیں پھر بھی رات اک پردہ، پھر فردا ہے اور پھر آگے کی بات سوچیں تارے نوچیں اور جا پہنچیں کتنی دور دل ہے گہرا اک جا ٹھہرا کھوجے اپنی ذات اک چادر لفظوں کی بن کر چھپ چھپ بیٹھوں اوٹ پر آنکھیں اپنی ہانکیں اور کھلتی جائے بات گھاتیں اس کی ساری باتیں گھاتیں اس کے طور گھات ہے الفت، گھات ہے نفرت اور نیناں ہیں گھات آنچل چھوڑوں بادل اوڑھوں پیچھے پیچھے چاند آنکھیں کھولوں، لاکھ ٹٹولوں کچھ نہیں میرے ہات عشق میں پہلے پل دل چنچل، دوجا پل اک روگ تیجے پل یہ نیناں جل تھل، چوتھے پل سب مات برکھا کا قطرہ بھی دریا سارے رت کے کھیل بھادوں کی چھاجوں بارش بھی پل دو پل کی بات
raas hai mujh ko shab, tanhaa aavaara chaand
راس ہے مجھ کو شب، تنہا آوارہ چاند سرطانی ہوں میں، میرا سیارہ چاند ان کو شعر کروں، اندر کی بات کہوں موسم رات گھٹا، سورج اک تارا چاند میں نے جیتی یہ بازی، ہے رات گواہ تھک کر پلٹا چودھویں شب، پھر ہارا چاند لہروں لہروں پرچھائیں پامال ہوئی دیکھ رہا ہے حسرت سے بے چارہ چاند میں ٹھہری من جوگن شب بھر کاہے کو ساتھ مرے پھرتا ہے مارا مارا چاند چودھویں شب کیوں بے کل ہو اور پٹخے سر جب تیرے ہم زاد سے کھیلے دھارا چاند میں ڈوبی پھر ابھری آخر ڈوب گئی موج بحر درد تھی اور کنارا چاند





