SHAWORDS
Nikita Pareek

Nikita Pareek

Nikita Pareek

Nikita Pareek

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اس صدی میں تو صداقت پر ستم ایسا ہوا ہے پاؤں چھوڑو پر پسارے چھل کپٹ پھیلا ہوا ہے ہاں دھوئیں پہ قتل کا الزام آئے گا یقیناً کیونکہ یہ ہر مرتبہ کچھ خاک کر پیدا ہوا ہے اک طرف رکھی محبت اک طرف ہے فکر یعنی اک ترازو میں وزن کا ایک ہی پلڑا ہوا ہے دیکھتے ہیں بت سبھی یہ مسئلہ حیران ہو کر کس قدر یاں آدمی اب آپ ہی مولیٰ ہوا ہے رات بھر دکھتا رہا اک شخص مجھ کو خواب بن کر سوچ کر وہ خواب ہی دن آج کا ضائع ہوا ہے

is sadi mein to sadaaqat par sitam aisaa huaa hai

1 views

غزل · Ghazal

وقت خود کا خود بخود ہی اب ہمیں لانا پڑے گا ولولے میں آ کے ہم کو خون مہکانا پڑے گا تیرگی تقدیر کی گر ختم کرنی ہے ہمیں تو پھر ہمیں اپنا ستارا آپ چمکانا پڑے گا زندگی کا لطف اٹھانے کی اگر خواہش ہے دل میں تو جوانی میں ہمیں کچھ بچپنا لانا پڑے گا گر نجومی کوئی پڑھ سکتا ہے ہاتھوں کی لکیریں موت کا میری اسے طے وقت بتلانا پڑے گا اس خدا نے کامیابی کو رکھا اونچی جگہ پر اب تو محنت کر کے ہی ہم کو وہاں جانا پڑے گا

vaqt khud kaa khud-bakhud hi ab hamein laanaa paDegaa

1 views

غزل · Ghazal

لخت دل بکھرا جدھر بھی نقش جاناں بن گیا غم اضافے کے لیے جیسے کہ ساماں بن گیا خط جگر گھائل کرے اور پھول ڈھائے ہے ستم زخم یعنی اک کریدے اک نمکداں بن گیا صرف اک ہی دل ملا تھا اک ستم یہ ہی ہوا اور پھر یہ بھی ستم وہ ہی پریشاں بن گیا دل کریں دل میں بناؤں نور سے خورشید کے کیا مصیبت ہے کہاں سے اب یہ ارماں بن گیا مسئلہ روئیں گے کس کو کیا کریں گے غم سبھی اس جہاں میں گیتؔ گر یہ عشق آساں بن گیا

lakht-e-dil bikhraa jidhar bhi naqsh-e-jaanaan ban gayaa

غزل · Ghazal

وصل میں بھی ہجر کو محسوس کر کے آ گئے ہم دل لگانے کو گئے تھے آنکھ بھر کے آ گئے ہم ٹوٹنا پھر آنکھ بھرنا کر رہے ہیں ہم مسلسل موت سے پہلے ہی کتنی بار مر کے آ گئے ہم بزم میں پوچھا کسی نے بے وفا کا نام کیا ہے اور اس کے نام سے دیوار بھر کے آ گئے ہم بات ہے معیار کی تو میکدے جاتے نہیں ہیں پر نشے میں ہیں نشہ الفت کا کر کے آ گئے ہم مسئلہ کرنے لگا تھا دل بھلانے میں اسے تب ہاتھ پکڑا اور دل ہاتھوں میں دھر کے آ گئے ہم

vasl mein bhi hijr ko mahsus kar ke aa gae ham

غزل · Ghazal

تھک گیا جب جسم و جاں کے بوجھ کو ڈھوتے ہوئے چل دیا وہ موت کے آغوش میں سوتے ہوئے مجھ کو پڑھنا تھا کہ پورے خواب اپنے کر سکوں بیچ آیا مفلسی کا واقعہ روتے ہوئے آنکھ بھر آتی ہے جب دیکھوں وہ بچہ ریل میں وہ کھلونے بیچتا ہے بچپنا کھوتے ہوئے میں بڑی ہوں یہ انا بھی گر پڑی تھی تب مری جب مرا سایا دکھا مجھ سے بڑا ہوتے ہوئے دوست کیوں سادہ کفن اوڑھا دیا تم نے مجھے مجھ کو جانا تھا مرے اشعار میں سوتے ہوئے

thak gayaa jab jism-o-jaan ke bojh ko Dhote hue

غزل · Ghazal

کس نے یہ تصویر بنائی بادل پر جیوں کوئی چنری لہرائی بادل پر جنگل جنگل بستی بستی یہ گھومے دیکھو تھک کر سلوٹ آئی بادل پر یا تو تتلی بھولی ان پر رنگ اپنے یا رنگوں نے ہاٹ لگائی بادل پر شب بھر چلتا لکنا چھپنا چندہ کا دن میں سورج سے رعنائی بادل پر بادل میں ہر مذہب کے رب رہتے ہیں دیکھی کیا مذہب کی لڑائی بادل پر

kis ne ye tasvir banaai baadal par

Similar Poets