
Nilendra Rana
Nilendra Rana
Nilendra Rana
Ghazalغزل
phir to har chehra nigaahon se utar jaataa hai
پھر تو ہر چہرہ نگاہوں سے اتر جاتا ہے جب یہاں خون کے رشتوں کا اثر جاتا ہے جانے والوں نے تو چھوڑا ہے بہت کچھ لیکن پانے والوں سے سنجونے کا ہنر جاتا ہے کھینچ لو ہجر کی تصویر کہاں ممکن ہے آئنہ چھوٹ کے ہاتھوں سے بکھر جاتا ہے سر جھکاتا ہوں تو گر جاتی ہے دستار مری اور دستار بچاتا ہوں تو سر جاتا ہے وہ منافق ہے مرا یار نہیں ہو سکتا صبح ادھر آتا ہے اور شام ادھر جاتا ہے پھر سے جل اٹھتے ہیں امید کے خاموش دیے ایک مزدور سرشام جو گھر جاتا ہے ایک مورت بھی مکمل نہیں ہونے دیتا روز مٹی وہ نئی چاک پہ دھر جاتا ہے
khud ko detaa huun tasalli yahi ghabraane par
خود کو دیتا ہوں تسلی یہی گھبرانے پر وہ ضرور آئے گا دریا کے اتر جانے پر ذائقہ اس کا تو چکھنا ہی پڑے گا سب کو نام سب کا ہے لکھا موت کے پیمانے پر لگ رہا ہے کہ میں زندہ ہوں ابھی تک ورنہ دفعتاً دل نہ دھڑکتا یوں ترے آنے پر اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھے ہیں سب نے پتھر کون لکھے گا قصیدہ یہاں دیوانے پر حسن پروا کہاں کرتا ہے کوئی جاں سے گیا شمع کب روتی ہے پروانے کے جل جانے پر ہائے رے وقت نے کیا مجھ پہ ستم ڈھایا ہے لوگ ہنستے ہیں مرے عشق کے افسانے پر اپنے اس بندے کو ایمان سے خالی نہ سمجھ نقش ہے نام ترا دل کے ہر اک خانے پر تم وہاں بانٹنے آئے ہو محبت راناؔ لوگ ہنستے ہیں جہاں پھول بکھر جانے پر
hausle jab javaan hote hain
حوصلے جب جوان ہوتے ہیں زیر پا آسمان ہوتے ہیں یہ بزرگوں کی شان ہوتے ہیں گھر میں جو پاندان ہوتے ہیں وقت کے ساتھ جو بھی چلتے ہیں بس وہی کامران ہوتے ہیں تم کو تصدیق غم کی کرنی ہے اشک تو بے زبان ہوتے ہیں بس ریاکاری اس میں رہتی ہے یہ جو اونچے مکان ہوتے ہیں پر سکوں ہم گھروں میں سوتے ہیں سرحدوں پر جوان ہوتے ہیں
apne liye nahin na zamaane ke vaaste
اپنے لئے نہیں نہ زمانے کے واسطے سب کام کر رہے ہیں دکھانے کے واسطے جتنے انا پرست ہیں محفل میں ان سے ہم ہرگز اٹھے نہ ہاتھ ملانے کے واسطے ہم سے تماش گاہ جہاں کا نہ حال پوچھ رونا پڑا ہے سب کو ہنسانے کے واسطے کندھے پہ لے چلے ہیں اقارب اٹھا کے لاش عجلت میں زیر خاک دبانے کے واسطے آنگن میں فرش ڈھال کے مٹی کو لائے ہیں شہرت پسند پیڑ لگانے کے واسطے ہر گام پوچھتا ہے وہ اب میرا حال چال سازش لگے ہے مجھ کو مٹانے کے واسطے قیمت بتا رہا تھا ہر اک چیز کی مجھے لایا تو تھا وہ گھر کو دکھانے کے واسطے بھوکا تھا اک فقیر مرے در پہ اور مرے گھر میں نہیں تھا کچھ بھی کھلانے کے واسطے راناؔ کے ساتھ کہنے لگا ہے ہر ایک شخص سازش ہوئی ہے بستی جلانے کے واسطے
takht-e-dil pe jo hukmraani hai
تخت دل پہ جو حکمرانی ہے سرخ رو ہونے کی نشانی ہے باپ کے دل پہ اک گرانی ہے گھر میں بیٹی جو اک سیانی ہے پیاسے ہونٹوں پہ آب رکھنے کی اپنی عادت بڑی پرانی ہے اپنے ہونے کی دے رہا ہے سند یہ جو دریاؤں میں روانی ہے یہ فقیروں کی بستیاں ہیں یہاں حق بیانی ہی حق بیانی ہے اس میں آداب نفسیاتی ہیں وہ کوئی شخص خاندانی ہے اس پہ بندوں کا بس نہیں چلتا یہ بلا کوئی آسمانی ہے میں نے لکھی تھی زندگی اپنی سب سمجھتے ہیں یہ کہانی ہے ہم تو قائل ہیں روح کے راناؔ جسم کچھ بھی نہیں یہ فانی ہے





