
Nilesh Noor
Nilesh Noor
Nilesh Noor
Ghazalغزل
سمندر تم اگر ملنا ندی سے تو پھر ملنا بڑی ہی سادگی سے تمہاری چیخ اس کا حوصلہ ہے وہ ڈرتا ہے تمہاری خامشی سے وہ جس نے موت کو اپنا لیا کل محبت تھی اسے بھی زندگی سے ذرا سا ذہن گز بھر کی زباں ہو تو کیا امید ایسے آدمی سے
samundar tum agar milnaa nadi se
اس نے جیسی سونپی ہے ویسی ملے یہ نہ ہو چادر اسے میلی ملے اس سفر میں رات جب گہری ملے شمع دل میں اے خدا جلتی ملے یاد رکھنے کے لئے دنیا رہی بھول جانے کے لئے ہم ہی ملے یہ بغاوت ہے تو ہم باغی سہی سچ کہیں گے پھر سزا اس کی ملے ہم بھی پہلے روز ملتے تھے مگر بعد میں کچھ یوں ہوا کم ہی ملے سر قلم کرنے پہ آمادہ ہے وہ چاہتے ہیں ہم بھی اب چھٹی ملے ڈال دینا بیج کچھ پھولوں کے تم جب بھی مٹی میں مری مٹی ملے
us ne jaisi saunpi hai vaisi mile
جیسے دھل کر آئینہ پھر چمکیلا ہو جاتا ہے رو لیتا ہوں رو لینے سے من ہلکا ہو جاتا ہے مشکل سے اک سوچ برابر کی دوری ہے دونوں میں لیکن خود سے ملے ہوئے بھی اک عرصہ ہو جاتا ہے فوکس پاس کا ہو تو منظر دور کا صاف نہیں رہتا منزل دنیا رہتی ہے تو رب دھندھلا ہو جاتا ہے مندر مسجد گردوارے میں کوئی کام نہیں میرا انا کچل لیتا ہوں اپنی تو سجدہ ہو جاتا ہے خود کی جانب قدم بڑھائے جاتا ہوں میں صدیوں سے کبھی سفر میں فانی دنیا میں رکنا ہو جاتا ہے ہر دم لڑتا رہتا ہے ہر بات پہ مجھ سے میرا دل اور میرے پیچھے ہٹتے ہی سمجھوتا ہو جاتا ہے جب وہ گلے لگاتا ہے تو روح مہکتی ہے میری بارش کی پہلی بوندوں سے گھر سوندھا ہو جاتا ہے نورؔ ولی سے لگتے ہو جب میخانے کے ہوتے ہو دنیا کے ہو جاتے ہو تو سب مایا ہو جاتا ہے
jaise dhul kar aaina phir chamkilaa ho jaataa hai
یوں ہمیں ہر اک گنہ کا سامنا کرنا پڑا حشر میں خود کے کیے پر تبصرہ کرنا پڑا صلح پھر اپنے ہی دل سے یوں ہمیں کرنی پڑی فیصلے کو ٹالنے کا فیصلہ کرنا پڑا کامیابی کی خوشی میں چیختا ہے اک ملال سوچ کر نکلے تھے کیا کچھ اور کیا کرنا پڑا ایک مدت سے کئی چہرے تھے آنکھوں میں اسیر آنسوؤں کی شکل میں سب کو رہا کرنا پڑا جھوٹ کے نقار خانے میں بلا کا شور ہے سچ کی شہنائی کو سن کر ان سنا کرنا پڑا آ گیا تھا ایک بار اس کی طلسمی باتوں میں ذہن کو پھر عمر بھر دل کا کہا کرنا پڑا جب سبھی پتھر خدا ہونے پہ آمادہ ملے پتھروں میں نورؔ خود کو آئنہ کرنا پڑا
yuun hamein har ik gunah kaa saamnaa karnaa paDaa
کوئی امید بکھرنے کے ڈر سے نکلا تھا خدا خیال ہے ذہن بشر سے نکلا تھا قدم بڑھاتے ہی رستے سے ہو گئی ان بن اگرچہ ٹھان کے منزل میں گھر سے نکلا تھا جو شخص غیر کے سائے میں ڈھونڈھتا ہے پنہ ہمارے سائے کے گہرے اثر سے نکلا تھا تمام بھیگے خیالات سوکھ کر اک دن غبار دل سے اٹھا چشم تر سے نکلا تھا بلک کے نورؔ اسے خون روتے دیکھا ہے تمہارا تیر جو میرے جگر سے نکلا تھا
koi umiid bikharne ke Dar se niklaa thaa





