SHAWORDS
Nisar Dinajpuri

Nisar Dinajpuri

Nisar Dinajpuri

Nisar Dinajpuri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کون آیا سر بازار کوئی کیا جانے کیوں زلیخا ہے خریدار کوئی کیا جانے مجھ کو کیوں آپ سے ہے پیار کوئی کیا جانے آپ کے حسن کا معیار کوئی کیا جانے سینکڑوں ماہ جبیں ہیں سر محفل لیکن آنکھ کس کی ہے طلب گار کوئی کیا جانے اب مسیحا نہ دوائیں کوئی کام آئیں گی آپ کا کیسا ہے بیمار کوئی کیا جانے دیکھ کر مجھ کو کہا سب نے دوانہ لیکن حسن کے تلخ ہیں آثار کوئی کیا جانے دل نثارؔ آپ پہ جس دن سے کئے بیٹھا ہوں میں زمانے سے ہوں بیزار کوئی کیا جانے

kaun aayaa sar-e-baazaar koi kyaa jaane

غزل · Ghazal

دنیا میں رہ کے دنیا سے ہٹ کر ذرا چلے ہم اپنی خواہشات کو دل میں دبا چلے تیری محبتوں کا سدا سلسلہ چلے دل کے چمن میں تیرے کرم کی ہوا چلے میرے چراغ ہاتھوں کو کھولے ہوئے ہیں اب کہہ دے کوئی ہوا سے کہ بچ کر ذرا چلے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں زمانے میں دوستو سورج کی جو تلاش میں لے کر دیا چلے رہتا تھا میرے گاؤں میں دیوانہ اک کبھی جانے کہاں گیا ہے یہ کچھ تو پتہ چلے کیا گردشیں ستائیں گی مجھ کو بھلا نثارؔ میں جب چلوں تو ساتھ میں ماں کی دعا چلے

duniyaa mein rah ke duniyaa se haT kar zaraa chale

غزل · Ghazal

کرم نواز کبھی ذوق بے پناہ میں آ نظر میں آ چکا اب دل کی بارگاہ میں آ سکون دل کی طلب ہے تو مشورہ ہے مرا تو سر جھکا کے عقیدت سے خانقاہ میں آ تری ہے عید تو اس کی بھی عید ہو جائے سر یتیم پہ رکھ ہاتھ عید گاہ میں آ حرم کا تھا تو مسافر کیوں دیر تک پہنچا بہت تماشے ہوئے اب تو سیدھی راہ میں آ مشاعرہ ہے یہ مجرا نہیں ہے کوئی نثارؔ نہ محفلوں میں کبھی شوق واہ واہ میں آ

karam-navaaz kabhi zauq-e-be-panaah mein aa

غزل · Ghazal

انہیں زمیں کہ انہیں آسماں نہیں ملتا نصیب والوں کو کیا کیا یہاں نہیں ملتا وہاں کی آب و ہوا مجھ کو چاہیے ہی نہیں جہاں پہ عشق کا نام و نشاں نہیں ملتا لبوں پہ قصے مچلتے ہیں روز و شب کتنے سنائیں کس کو کوئی ہم زباں نہیں ملتا اٹھائے بوجھ جو سارے مکان کا تنہا اب ایسا دنیا میں کوئی جواں نہیں ملتا اٹھائے ہجر نے کچھ ایسے یاد کے پردے کوئی بھی فاصلہ اب درمیاں نہیں ملتا تمہاری پیاس پہ قربان سینکڑوں دریا ہماری پیاس کو کوئی کنواں نہیں ملتا اگرچہ دل کے بھی جنگل میں آگ لگتی ہے مگر نثارؔ کہیں بھی دھواں نہیں ملتا

unhein zamin ki unhein aasmaan nahin miltaa

غزل · Ghazal

ہر اک دل کا یہ قصہ رہ گیا ہے مکاں ٹوٹا ہے ملبہ رہ گیا ہے کہاں دشمن کا خدشہ رہ گیا ہے فقط اپنوں سے خطرہ رہ گیا ہے تری زلفوں کے سائے میں سمٹ کر یوں لگتا ہے سویرا رہ گیا ہے کہاں ڈھونڈوں کہ آنکھوں میں سما کر کوئی گمنام جلوہ رہ گیا ہے کسی کی بھی نہیں آیا سمجھ میں وہ بن کر اک معمہ رہ گیا ہے چلا تھا سب کو وہ اپنا بنانے بھری دنیا میں تنہا رہ گیا ہے ہواؤں کا بجا ہے زور پیارے شجر پر ایک پتہ رہ گیا ہے دوانہ چھوڑ آیا تھا جہاں پر وہیں ٹھہرا زمانہ رہ گیا ہے سیاست سیکھ لینی ہے نثارؔ اب یہی تو ایک دھندا رہ گیا ہے

har ik dil kaa ye qissa rah gayaa hai

Similar Poets