
Nisar Turabi
Nisar Turabi
Nisar Turabi
Ghazalغزل
nazar uThi hai jidhar bhi udhar tamaashaa hai
نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے بشر کے واسطے جیسے بشر تماشا ہے زمیں ٹھہرتی نہیں اپنے پاؤں کے نیچے پڑاؤ اپنا ہے جس میں وہ گھر تماشا ہے یہاں قیام کرے گا نہ مستقل کوئی ذرا سی دیر رکے گا اگر تماشا ہے فگار ہو کے بھی رکھے گا آبروئے نمو نگاہ زر میں جو دست ہنر تماشا ہے اے موسموں کے خدا بھید یہ کھلے آخر نگاہ شاخ میں کیسے شجر تماشا ہے نہ بال و پر ہیں میسر نہ اذن گویائی تو اس کے معنی ہیں اپنی سحر تماشا ہے ملا نثارؔ ترابی سرائے حیرت سے وہ آئنا جسے اپنی نظر تماشا ہے
zindagi kaarvaan kaa hissa hai
زندگی کارواں کا حصہ ہے ہجر کی داستاں کا حصہ ہے شکل بھی تو ہے عکس کی باندی نقش بھی تو نشاں کا حصہ ہے اپنا اپنا مقام ہوتا ہے ذرہ ذرہ جہاں کا حصہ ہے کس لیے مہرباں نہیں ہوتی کیا زمیں آسماں کا حصہ ہے کس لیے دے رہے ہو تاویلیں وہ جہاں ہے وہاں کا حصہ ہے پھر تو خانہ بدوشی بہتر ہے کہ جب اذیت مکاں کا حصہ ہے پھر تو ناؤ لگے کنارے بھی سمت اگر بادباں کا حصہ ہے تو ہی فکر عیاں کا مرکز بھی تو ہی حرف نہاں کا حصہ ہے لب پہ تیرے جو آ کے بکھرا ہے وہ بھی میرے بیاں کا حصہ ہے
ziist ki aagahi kaa haasil hai
زیست کی آگہی کا حاصل ہے درد ہی شاعری کا حاصل ہے ہے خرد بھی خرد کے نرغے میں عشق خود گمرہی کا حاصل ہے زندگی کا ثبات ہے اس میں یہ جو آنسو ہنسی کا حاصل ہے یوں ترا پاس سے گزر جانا عمر کی بے رخی کا حاصل ہے پوچھتی ہے صبا گلستاں سے پھول کیوں تازگی کا حاصل ہے لوٹ لیتی ہے قافلے کیسے رات جب بندگی کا حاصل ہے کب یہ جانے گا آدمی جانے آدمی آدمی کا حاصل ہے ہے ترنم صدا کے پردوں میں نغمگی بانسری کا حاصل ہے سوچ کا سمت رہ نہیں سکتی شعر آوارگی کا حاصل ہے اس قدر پاس آ کے مت بیٹھو قرب بیگانگی کا حاصل ہے تو مرے رت جگوں کی منزل ہے دن کی دیوانگی کا حاصل ہے





