Nishat Fahmi
nazar aataa hai yuun to har qadam par raahbar mujh ko
نظر آتا ہے یوں تو ہر قدم پر راہبر مجھ کو مگر کچھ یاد آ جاتا ہے اس کو دیکھ کر مجھ کو چمن والے ابھی بیٹھیں نہ ہرگز مطمئن ہو کر نظر آتا ہے گلشن میں ابھی رقص شرر مجھ کو ہزاروں منزلیں ہیں میرے قدموں کے تلے پنہاں سمجھتا ہے زمانہ کیوں غبار رہ گزر مجھ کو بلا سے آگ برسے یا بگولے رقص فرما ہوں نہ ڈرتا ہوں میں بجلی سے نہ ہے خوف شرر مجھ کو سمٹتی جا رہی ہے شب شفق کے سرخ آنچل میں ستارے صبح کے دیتے ہیں پیغام سحر مجھ کو