Nitesh Kushwaha
Nitesh Kushwaha
Nitesh Kushwaha
Ghazalغزل
چلئے ہم بیمار بھی ہو جائیں گے آپ پھر تو دیکھنے کو آئیں گے یہ تماشہ ختم ہی ہوتا نہیں اس جہاں میں عشق نئیں دہرائیں گے ٹوٹے پتے کہہ رہے ہیں شاخ سے باغبانی ہم تمہیں سکھلائیں گے آنے کا وعدہ کریں گے پہلے تو بعد میں مجبوریاں بتلائیں گے واپسی میں اک برائی یہ بھی ہے سب مری ناکامیاں گنوائیں گے
chaliye ham bimaar bhi ho jaaeinge
1 views
مرا مصرع ثانی ہو گیا ہے وہ یعنی زندگانی ہو گیا ہے بہا کر ساتھ اپنے میری مٹی یہ دریا پانی پانی ہو گیا ہے بچھڑ کر وہ محبت بڑھ گئی ہے ترا غم کھاد پانی ہو گیا ہے یہ آنکھیں خواب تیرے ڈھو رہی ہیں تو کن آنکھوں کا پانی ہو گیا ہے وہی کرتا ہے سارے فیصلے اب جو دل کی راجدھانی ہو گیا ہے
miraa misra-e-saani ho gayaa hai
سزا ہی بعد اس کے کیا ملے گی زندگی میں مری ہی زندگی میری نہیں تھی زندگی میں تو اول ہے یہاں ایسا نہیں ہے اے مسافر کئی گزرے ہیں راہ دل سے میری زندگی میں بچھڑ کر ہو گیا ہے تیسرا اب سال ہم کو سو یہ بھی جھوٹ تھا بس چار دن ہی زندگی میں دھڑکتی ہے تو اب بھی سینہ میں جاں دل کی صورت تو وہ شے کیا تھی جو ہر بار ٹوٹی زندگی میں اسے کہنا کہ اب بھی میں نہیں رہتا ہوں تنہا اداسی نام کی ہے ایک لڑکی زندگی میں
sazaa hi baad is ke kyaa milegi zindagi mein
ہمارے خواب گرتے جا رہے تھے سو ہم آنکھیں بدلتے جا رہے تھے ہمارے پاس کوئی بھی نہیں تھا پہ ہم سائے سے ڈرتے جا رہے تھے بھرا تھا حسرتوں سے ڈسٹ بن بھی صفائی دل میں کرتے جا رہے تھے اداسی اس قدر لپٹی ہوئی تھی در و دیوار ہنستے جا رہے تھے کہانی سر پٹک کر رو رہی تھی سبھی کردار مرتے جا رہے تھے
hamaare khvaab girte jaa rahe the
یہ دنیا تب حسیں اتنی نہیں تھی میری جب عشق سے بنتی نہیں تھی بتاتے تھے مجھے آ کر کبوتر وہ لڑکی جب وہاں رہتی نہیں تھی دعا دن رات کرتے تھے مصور تری تصویر پر بنتی نہیں تھی گھڑی ہم اس کی دی لوٹاتے کیسے ہماری زندگی چلتی نہیں تھی سب اپنے گھر کو جلدی لوٹتے تھے مری ہی شام بس ڈھلتی نہیں تھی خدا کے ساتھ رہتے تھے فلک پر زمیں والوں سے جب بنتی نہیں تھی عیاں کر دیتا تھا میں سب ندی پر ندی مجھ پر مگر کھلتی نہیں تھی میں خود کو روک لیتا خودکشی سے مری مجھ پر مگر چلتی نہیں تھی ہم اب کے چار خانے چت پڑے تھے اور آگے چال بھی بنتی نہیں تھی
ye duniyaa tab hasin itni nahin thi





