Niyaz Aazmi
hijr ke honTon pe aandhi ki duaa bhi aae hai
ہجر کے ہونٹوں پہ آندھی کی دعا بھی آئے ہے شاخ ٹوٹے ہے تو پھر پنچھی بہت پچھتائے ہے مست صحرا کی ہوائیں بندشیں سب چاک چاک دل کسی بے نام دنیا کے ترانے گائے ہے برف سے ڈھکنے لگی ہیں سب پہاڑی چوٹیاں اپنے ہی آغوش میں ماحول سہما جائے ہے کیا عجب برہم فضا ہے فصل گل جانے کو ہے ہر شجر پر ایک دھانی درد سا لہرائے ہے لا تعلق ہوں میں ان کالی صداؤں سے مگر کرب سے شیرازۂ احساس بکھرا جائے ہے اے نیازؔ اب کیا لکھوں اندھے سفر کے باب میں گر کسی دلدل سے نکلوں تو سمندر آئے ہے