
Niyaz Ahmad Aatir
Niyaz Ahmad Aatir
Niyaz Ahmad Aatir
Ghazalغزل
چاند کو چاند کے روبرو کر لیا پھر تمہیں شامل گفتگو کر لیا اک عبادت ادھوری پڑی تھی مری یاد کرتے ہی تم کو وضو کر لیا پھونک کر زندگی عشق کی آگ میں درد اپنا عیاں چار سو کر لیا سوز دل دیکھ اپنے تو دیوانے کا کس طرح خود کو بے آبرو کر لیا کر لیا ضبط بھی ہو گیا صبر بھی زخم جو بھی ملا وہ رفو کر لیا رات تھی چاندنی جام تھا ہاتھ میں خود کلامی میں اپنا لہو کر لیا لوگ عاطرؔ تجھے دیکھتے رہ گئے امتحاں زیست کا سرخ رو کر لیا
chaand ko chaand ke ru-baru kar liyaa
متاع غم سنبھال کر ترا فراق پال کر میں مر گیا ہوں اپنی ذات سے تجھے نکال کر چراغ زیست بجھ گیا ترا فقیر لٹ گیا میں خالی ہاتھ رہ گیا ہوں میرا کچھ خیال کر الم کشوں سے دوستی ہے مے کدوں سے بیر ہے کسے ملوں کسے کہوں مرے لیے ملال کر اسی پہ میں الجھ گیا اسی پہ میں بھٹک گیا جو ہجر میں گزر گئے شمار ماہ و سال کر مرا جنون بڑھ گیا مرا سکون لٹ گیا میں بد حواس ہو گیا ہوں شمع کو اجال کر
mataa'-e-gham sanbhaal kar tiraa firaaq paal kar
وجود یار کی دھمال دیکھتا ہی رہ گیا میں سر سے پاؤں تک جمال دیکھتا ہی رہ گیا محبتیں تو ڈھل گئیں عبادتوں کے رنگ میں ملاپ کا ترا خیال دیکھتا ہی رہ گیا وجود کی تمازتیں تو کھا گئیں مرا سکوں میں زندگی کا یہ کمال دیکھتا ہی رہ گیا نیاز بے وفائی کا جواب دے نہیں سکا میں اس کی آنکھ میں سوال دیکھتا ہی رہ گیا
vujud-e-yaar ki dhamaal dekhtaa hi rah gayaa
چھن گیا سائباں دربدر ہو گیا مر گئی جب سے ماں دربدر ہو گیا شہر بھی ہے وہی لوگ بھی ہیں وہی ڈھونڈتے آشیاں دربدر ہو گیا ہر گلی ہر سڑک دیکھی بھالی مری ہائے قسمت کہاں دربدر ہو گیا کوئلوں بلبلوں کا جو تھا ہم نوا دیکھ لے باغباں دربدر ہو گیا جھڑکیوں ہچکیوں کے سفر میں رہا بخت کے درمیاں دربدر ہو گیا اوڑھ کر وحشتیں پھرتا ہوں کو بہ کو ٹھہروں میں اب کہاں دربدر ہو گیا دکھ بھری زندگی لٹ گئی ہر خوشی بول کر داستاں دربدر ہو گیا اپنے حالات کا یہ ستایا ہوا آج مالک مکاں دربدر ہو گیا
chhin gayaa saaebaan dar-ba-dar ho gayaa
محبتوں کی ارتھیاں سنبھالتے سنبھالتے میں تھک گیا ہوں سسکیاں سنبھالتے سنبھالتے کبھی ادھر کبھی ادھر میں دربدر جہاں پھرا یہ ٹوٹے دل کی کرچیاں سنبھالتے سنبھالتے میں اپنی جان سے گیا میں اس جہان سے گیا یہ نفرتوں کی تلخیاں سنبھالتے سنبھالتے میں پی چکا ہوں ہر شراب صوفیانہ رنگ میں شباب تیری مستیاں سنبھالتے سنبھالتے
mohabbaton ki arthiyaan sanbhaalte sanbhaalte
ٹیبل پہ رکھی شال سے آگے نکل گئی چپ میرے ہر سوال سے آگے نکل گئی معلوم ہو گیا ہے یہ مسکال سے مجھے آوارگی ملال سے آگے نکل گئی کمرے کے کچے رنگوں میں حیرت جواں ہوئی تصویر ماضی حال سے آگے نکل گئی میں پڑھتا فاتحہ نہیں مانوس چہروں کی وہ مہ جبیں خیال سے آگے نکل گئی لاچارگی کا کرب مجھے مار ڈالے گا بے چینی میرے حال سے آگے نکل گئی مجھ کو پتا نہیں لگا کب میں جواں ہوا کچھ عمر ماہ و سال سے آگے نکل گئی
Table pe rakkhi shawl se aage nikal gai





