SHAWORDS
Niyaz Gulbargavi

Niyaz Gulbargavi

Niyaz Gulbargavi

Niyaz Gulbargavi

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

kaise shaam-o-sahar ho gae

کیسے شام و سحر ہو گئے ہم ادھر تم ادھر ہو گئے آپ جو ہم سفر ہو گئے راستے مختصر ہو گئے چھوڑ کر آستانہ ترا جانے کیوں در بدر ہو گئے ہم سمجھتے تھے بے بال و پر ہم نہ ہوں گے مگر ہو گئے اعتبار مسرت کہاں درد و غم معتبر ہو گئے کیا بتائیں کٹی کیسے شب کس طرح دن بسر ہو گئے

غزل · Ghazal

hayaa-maaab mohabbat nishaan hain aankhein

حیا مآب محبت نشان ہیں آنکھیں بڑی خلیق بڑی مہربان ہیں آنکھیں مچل رہے ہیں اشارے تڑپ رہے ہیں پیام جو دیکھیے تو بڑی بے زبان ہیں آنکھیں کبھی تمام توجہ کبھی تمام جفا دل حزیں کے لئے امتحان ہیں آنکھیں نمود عجز پہ آئیں تو فرش رہ بن جائیں غرور حسن میں تو آسمان ہیں آنکھیں

غزل · Ghazal

kuchh aur baDh gai hai khalish kam nahin hui

کچھ اور بڑھ گئی ہے خلش کم نہیں ہوئی اس کی نظر جو بھولے سے برہم نہیں ہوئی سارے چراغ اپنی تمنا کے بجھ گئے اک لو ہے تیری یاد کی مدھم نہیں ہوئی اے حسن غم نواز کوئی تازہ واردات مدت سے اپنی چشم طلب نم نہیں ہوئی دامن تمہاری یاد کا چھوٹا نہیں کبھی یورش غم جہاں کی ادھر کم نہیں ہوئی دنیا کی کم نگاہی کا شکوہ فضول ہے جب تیری چشم ناز ہی محرم نہیں ہوئی وہ زندگی بغیر طلوع سحر رہی جو زندگی شریک شب غم نہیں ہوئی اک ہم ہی بے نیاز مسرت رہے نیازؔ راحت جہاں میں کس کو فراہم نہیں ہوئی

غزل · Ghazal

ho gae tum se judaa yaad aaya

ہو گئے تم سے جدا یاد آیا جو نہ ہونا تھا ہوا یاد آیا دل بھر آیا ہے ہمارا کیا کیا جب بھی وہ عہد وفا یاد آیا میں تجھے یاد نہ آیا لیکن تو مجھے صبح و مسا یاد آیا تجھ کو جتنا بھی بھلانا چاہا تو مجھے اس سے سوا یاد آیا عیب اوروں میں نظر آئے بہت کب کسے اپنا کیا یاد آیا اس بیاباں میں جو کل رہتا تھا آج وہ آبلہ پا یاد آیا زندگی اپنی نیازؔ خستہ ایسی گزری کہ خدا یاد آیا

غزل · Ghazal

kami kyaa hai jalva-e-yaar ki vo kahaan nahin vo kidhar nahin

کمی کیا ہے جلوۂ یار کی وہ کہاں نہیں وہ کدھر نہیں یا نہیں ہے ذوق نظر یہاں یا جہاں میں اہل نظر نہیں یہ بھی سچ کہ تم مرے ہو چکے یہ بھی سچ کہ درد جگر نہیں غم عشق گو نہیں سامنے غم زندگی سے مفر نہیں یہ عجیب ہے ترا امتحاں کہ مجھی پہ گرتی ہیں بجلیاں تری بارگاہ جلال میں مری چشم تر کا گزر نہیں تو ادھر تو آ تو نظر تو آ مری چشم شوق کو آزما مرے حوصلے تو بلند ہیں گو نظر میں تاب نظر نہیں میں رہین درد و ستم ادھر تو بعید لطف و کرم ادھر جو بھلا سکا نہ کبھی تجھے یہ ستم ہے اس پہ نظر نہیں نہ وہ کشتگان صنم رہے نہ وہ محرمان حرم رہے کہاں چھپ گئے ترے آشنا کوئی آج گرم سفر نہیں نہ وہ کارواں نہ وہ رہ گزر نہ وہ آستاں نہ وہ سنگ در یہ پتہ نہیں کہاں آ گئے کہاں جا رہے ہیں خبر نہیں

غزل · Ghazal

subh-e-nau kaa surur hain ham log

صبح نو کا سرور ہیں ہم لوگ زندگی کا غرور ہیں ہم لوگ رونق کائنات ہم سے ہے چشم گیتی کا نور ہیں ہم لوگ کھا گئے ہیں فریب منزل کا اپنی منزل سے دور ہیں ہم لوگ شہر یار جہان فردا ہیں آج بے بس ضرور ہیں ہم لوگ پھر جنوں لے رہا ہے انگڑائی پھر غم دل سے چور ہیں ہم لوگ تیری دنیا میں آج رہ کر بھی تیری دنیا سے دور ہیں ہم لوگ

Similar Poets