
Niyaz Haidar
Niyaz Haidar
Niyaz Haidar
Ghazalغزل
vo nigaah-e-chashm-e-tilism-gar mujhe dekhte hi lajaa gai
وہ نگاہ چشم طلسم گر مجھے دیکھتے ہی لجا گئی وہ ادا جو سحر تمام سے بھی سوا کرشمہ دکھا گئی یہی جام پرتو رخ ترا یہی تیری زلف کو آئینہ مہ و ابرو مئے کی حسیں فضا اسے روکنا یہ فضا گئی وہ مثال برق نمود گم گشتگی تبسم بے اماں شفق آفریں سی وہ موج لب دل و جاں میں آگ لگا گئی وہ سیاہ رنگ شمیم شام وصال کی جو نوید ہے اس الم گزیدہ فراق میں وہی زلف یاد پھر آ گئی شہہ دلبراں تجھے کیا خبر دل رند خاک نشیں ہے کیا اسی خاک نے اسے دل کیا یہی خاک اس کو مٹا گئی وہ ستم شعار سہی مگر ہے وہی قرار دل و نظر وہ رہے تو رسم وفا رہے نہ رہے تو رسم وفا گئی
dil ke viraane ko mahfil ki taraf le chaliye
دل کے ویرانے کو محفل کی طرف لے چلئے کیوں سمندر کو نہ ساحل کی طرف لے چلئے آشنا راز حقیقت سے تبھی ہوں گے ہم ہر حقیقت کو جو باطل کی طرف لے چلئے اس کی تلوار کی تعریف سنوں میں کب تک پہلے مجھ کو مرے قاتل کی طرف لے چلئے موت منزل ہے مسیحا کی تو پھر کیا کہنا زندگی کو اسی محفل کی طرف لے چلئے کعبہ و دیر کے گمراہوں کا انجام ہی کیا یہی بہتر ہے انہیں دل کی طرف لے چلئے لوگ مشکل کو جب آسانی کی جانب لے جائیں آپ آسانی کو مشکل کی طرف لے چلئے سیر مہتاب بہت خوب سہی پھر بھی نیازؔ دل کو مہتاب شمائل کی طرف لے چلئے
viraane baagh baagh hain meri nigaah se
ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے ذرات شب چراغ ہیں میری نگاہ سے میری نظر شعاع جگر سوز و جاں گداز روشن دلوں کے داغ ہیں میری نگاہ سے ہے کس قدر حسین یہ تصویر کائنات خوش رنگ باغ و راغ ہیں میری نگاہ سے ساقی کی چشم مست پہ الزام آ نہ جائے لبریز سب ایاغ ہیں میری نگاہ سے وہ بے نیاز درد و غم زندگی نیازؔ وہ لوگ با فراغ ہیں میری نگاہ سے
ham naghma-saraai kaise karein bedaad-garon ki mahfil mein
ہم نغمہ سرائی کیسے کریں بیداد گروں کی محفل میں آنکھوں سے لہو کا راگ بہے تو جذب ہو کس پتھر دل میں گلشن پہ لپکتے کوندے کو بلبل کی صدا سے خوش کرنا گلشن کے محافظ کی ہے خوشی شاید بربادئ کامل میں تم وضع محبت کیا جانو تم کو وہ جنوں کیوں حاصل ہو مشکل ہے بہت ہی شرط وفا ناحق نہ پڑو اس مشکل میں طناز ہنسی مسموم نظر یہ کیسی فضائے الفت ہے دیکھیں اس دور کے شام و سحر کب تک رہیں نرغۂ قاتل میں
lab-e-gul ki hansi degi na tum ko raushni apni
لب گل کی ہنسی دے گی نہ تم کو روشنی اپنی ذرا شبنم کے اشکوں میں بھی دیکھوں زندگی اپنی ہمیں کیا غم کہ ہم اک زمزمہ پرداز گلشن تھے بہاروں کو ہوئی محسوس گلشن میں کمی اپنی مجھے محفل کی نظروں سے نظر آتا ہے محفل میں گوارا خاطر رنگیں کو ہے سادہ دلی اپنی مرے دل کی طرف اک بار بھیجی تھی کرن اس نے بھلا دی چاند نے اس رات سے تابندگی اپنی جو رہبر کارواں کو منزلوں کے نام پر لوٹے بتا اے ہم سفر اچھی نہیں کیا گمرہی اپنی یہ سب جام و سبو خالی سویرا تشنہ کامی کا کہ اب کل کے لیے رہنے دے کچھ ساقی گری اپنی شراب و شاہد و شہد ترنم نشۂ عشرت انہی میں پرورش پاتی رہی ہے تشنگی اپنی نگہ گستاخ تیور تند کون آیا سر محفل نیازؔ آتے ہی تیرے فکر سب کو ہو گئی اپنی





