SHAWORDS
Nizam Naushahi Sambhali

Nizam Naushahi Sambhali

Nizam Naushahi Sambhali

Nizam Naushahi Sambhali

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تم تو کہتے ہو کہ ہے سارا جہاں میرے لیے کیوں نہیں ملتا ہے پھر اک مہرباں میرے لیے میں اسی رستے پہ چل کر اپنی منزل پاؤں گا چھوڑ کر جس پر گئے ہیں وہ نشاں میرے لیے لوٹ کر میں آؤں گا اک روز تیرے واسطے اتنی کیوں بے چین ہے اے جان جاں میرے لیے جلوۂ جاناں سے روشن ہو گیا ہے میرا دل ہے اندھیری رات اب تو کہکشاں میرے لیے روز مل جاتی ہے مجھ کو کامیابی کی ڈگر روز ہوتا ہے نیا اک امتحاں میرے لیے آپ ہی نے پھیر لی مجھ سے نگاہ ملتفت آپ ہی تو تھے فقط اک سائباں میرے لیے میں تو ان کے گیسوئے خم دار میں الجھا رہا مے کدے سے روز آتی ہے اذاں میرے لیے میں زمیں پر ہوں مگر میری اڑانیں دیکھ کر رات دن گردش میں ہیں سات آسماں میرے لیے دیکھ کر اس بے وفا کو ہو گیا احساس اب میں تو ہوں اس کے لیے اور وہ کہاں میرے لیے ہاں وہی اک شخص تھا رونق مرے گھر بار کی وہ گیا تو کچھ نہیں میرا مکاں میرے لیے یوں تو سب ہمدرد ہیں لیکن حقیقت میں نظامؔ شہر میں کوئی نہیں ہے مہرباں میرے لیے

tum to kahte ho ki hai saaraa jahaan mere liye

غزل · Ghazal

ہر لمحہ دئے جاتے ہیں غم دیکھ رہا ہوں اپنوں کے یہ انداز کرم دیکھ رہا ہوں سب چاند ستاروں کی طرف دوڑ رہے ہیں چھپ چھپ کے میں بس اپنا صنم دیکھ رہا ہوں ہنستے ہوئے یہ کہنا کہ پہچانا نہیں ہے ٹوٹا ہے مرا کیسے بھرم دیکھ رہا ہوں سچ بولنے والے سے سبھی توڑ کے رشتے جھوٹے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ رہا ہوں لگتا ہے کہ اب عشق مکمل ہوا میرا ہوتا ہوا سر اپنا قلم دیکھ رہا ہوں آنا انہیں ہوتا تو نظامؔ آ گئے ہوتے سینے سے نکلتا ہوا دم دیکھ رہا ہوں

har lamha diye jaate hain gham dekh rahaa huun

غزل · Ghazal

ہیں تو مظلوم مگر تیغ اٹھا سکتے ہیں ظلم اور جبر کو مٹی میں ملا سکتے ہیں حاکم وقت کے پیروں میں پڑے ہیں بزدل کس طرح حق کی یہ آواز اٹھا سکتے ہیں آپ کے واسطے قربان تو ہو جاؤں مگر آپ اک لمحہ میں احسان بھلا سکتے ہیں اپنے ہونٹوں پہ محبت کا تبسم رکھ کر آپ چاہیں جسے دیوانہ بنا سکتے ہیں جتنے بھی گونگے ہیں وہ بولنے لگ جائیں اگر ایک ظالم کو یہ مسند سے اٹھا سکتے ہیں بس یہی بات کہ وہ پہلی محبت ہے نظامؔ ورنہ ہم تو اسے اوقات دکھا سکتے ہیں

hain to mazlum magar tegh uThaa sakte hain

غزل · Ghazal

دل مرا توڑ کر گئے تم بھی رخ بچا کے گزر گئے تم بھی جانا کب تھا مگر گئے تم بھی اس زمانے سے ڈر گئے تم بھی وہ جدھر تھا ادھر گئے تم بھی سامنے سے مکر گئے تم بھی جیسے دنیا اتار پھینکی ہے ویسے دل سے اتر گئے تم بھی میں سمجھتا تھا تم سمجھتے ہو یار دولت پہ مر گئے تم بھی تم بھی ظالم کا ساتھ دینے لگے اپنے اجداد پر گئے تم بھی تم نے دنیا سمیٹ لی تھی مگر چھوڑ کر مال و زر گئے تم بھی ان سے کہہ دیں ملیں نظامؔ اگر نفرتیں دل میں بھر گئے تم بھی

dil miraa toD kar gae tum bhi

غزل · Ghazal

جب اٹھی شمشیر ظالم ظلم ڈھانے کے لیے جوش پر آئی محبت سر کٹانے کے لیے تیری خاطر جانے کس کس سے محبت کی گئی میرے ہمدم ایک تیرا پیار پانے کے لیے آج پھر میری نظر ان کی نظر سے مل گئی مدتیں لگ جائیں گی اب ہوش آنے کے لیے اس لیے مرشد کے در پر جا رہے ہیں دوستو زخم دل ہوتے نہیں سب کو دکھانے کے لیے اک ذرا سی ٹھیس پہنچی اور بکھر کر رہ گئے آپ تو تیار تھے سب کچھ لٹانے کے لئے ایک بوڑھے باپ نے خود کو بھی گروی رکھ دیا صرف اپنی بیٹیوں کے گھر بسانے کے لیے مدتوں کے بعد کیسے مسکرائے ہو نظامؔ کیا انہیں فرصت نہیں تھی یاد آنے کے لیے

jab uThi shamshir-e-zaalim zulm Dhaane ke liye

غزل · Ghazal

سانولی صورت سرمئی آنکھیں گال پہ اک کالا تل ہے شوخ حسینہ سامنے ہے اور جگ مگ جگ مگ محفل ہے میری قسمت کب چمکے گی میرے مولا یہ تو بتا خواب میں اس کو دیکھ رہا ہوں جس کا ملنا مشکل ہے جانے کیا انجام ہو اس کا یہ تو بس رب ہی جانے اس کو جان بنا بیٹھا ہوں وہ جو میرا قاتل ہے تجھ سے محبت کرتے کرتے حال مرا کچھ ایسا ہوا میرے ہر لمحے میں دلبر بس تو ہی تو شامل ہے یہ جو ظالم ظلم کریں ہیں ان کو بتا دیں آپ نظامؔ رب کے علاوہ اور بھی کوئی اس کے جیسا عادل ہے

saanvli surat surmai aankhein gaal pe ik kaalaa til hai

Similar Poets