
Noor
Noor
Noor
Ghazalغزل
اپنے جذبے نثار مت کرتے وقت کا اعتبار مت کرتے داغ زخموں کے ان گنت ہوں گے آبلوں کا شمار مت کرتے درمیاں فاصلوں کے صحرا ہیں اب مرا انتظار مت کرتے اجنبی دیس اڑ گئے پنچھی اپنے بچوں سے پیار مت کرتے نفرتوں کے قمار خانے میں پیار کا کاروبار مت کرتے پیر تو پتھروں کے عادی ہیں طے کوئی سبزہ زار مت کرتے اک مرے جرم بے گناہی کا تذکرہ بار بار مت کرتے ظلم تاریک استعارہ ہے صاحب اقتدار مت کرتے نورؔ اس کوچۂ ملامت میں احترام بہار مت کرتے
apne jazbe nisaar mat karte
زندگی تھوڑی سی مہلت تو کبھی دی ہوتی زندہ رہنے کی اجازت تو کبھی دی ہوتی چاند نے ہاتھ مرا پیار سے تھاما ہوتا چاندنی چھونے کی مہلت تو کبھی دی ہوتی کتنے کھوئے ہوئے لمحوں کا خیال آتا ہے ڈھونڈنے کی کوئی رخصت تو کبھی دی ہوتی آپ کے شکوۂ بے جا کا گلہ کیا کرنا آپ نے اپنی محبت تو کبھی دی ہوتی کوئی اظہار وفا آپ سے کیسے کرتا بات کہہ دینے کی جرأت تو کبھی دی ہوتی اپنی ہی آنچ میں جلنے کے لئے اس دل کو شعلۂ عشق کی حدت تو کبھی دی ہوتی کاغذی پھول نگاہوں کو بھلے ہوں لیکن ان گلوں کو کوئی نکہت تو کبھی دی ہوتی جذب کا رقص کھلے عام نہیں ہے اچھا کرب احساس کو خلوت تو کبھی دی ہوتی سخت لہجوں کے رویوں کو بدلنے کے لئے نورؔ جذبوں کو نزاکت تو کبھی دی ہوتی
zindagi thoDi si mohlat to kabhi di hoti
یہ ازخود رفتگی بالکل نئی تھی کہ تفسیر حدیث دل نئی تھی سرابوں کی سرشت نارسائی تمنا کے لئے منزل نئی تھی وہ پہلے بھی جنوں سے آشنا تھے یہ گرمی خون میں شامل نئی تھی نیا تھا درد کے رشتوں سے ناطہ نئی کونپل تھی آب و گل نئی تھی کنارے موج سے ملتے رہے تھے مگر اب مستیٔ ساحل نئی تھی نئے جلوے فروزاں اس قدر تھے نگاہوں کے لئے مشکل نئی تھی وفا کی راہ میں ہر دو قدم پر کہیں دیوار اک حائل نئی تھی شکستہ پر تھے خوشیوں کے عنادل دکھوں کے پیر میں پائل نئی تھی اندھیرے خوف جس سے کھا رہے تھے تمناؤں کی وہ جھل مل نئی تھی
ye az-khud-raftagi bilkul nai thi
زندگی ہاتھ مل رہی ہے کیا اپنا چہرہ بدل رہی ہے کیا اب ہوا سسکیاں سی لیتی ہے وہ بھی کانٹوں پہ چل رہی ہے کیا ہجر کے سب عذاب جاگ اٹھے شب مہتاب ڈھل رہی ہے کیا پھر سے ساحل کا کھل اٹھا چہرہ موج طوفان ٹل رہی ہے کیا اب خزاں کے مزاج بپھرے ہیں وہ گلوں کو مسل رہی ہے کیا پھر تمنا نے بال و پر ڈھونڈے گر کے وہ بھی سنبھل رہی ہے کیا مانگ پھر بھر گئی اجالوں کی کوئی شمع سی جل رہی ہے کیا دھڑکنوں کا مزاج برہم ہے آرزو پھر مچل رہی ہے کیا نورؔ احساس کے تلاطم میں کوئی حسرت نکل رہی ہے کیا
zindagi haath mal rahi hai kyaa
کہیں زمین کہیں آسمان چھوڑ آئے دیار کرب میں اپنا مکان چھوڑ آئے نئے سفر پہ نئے موسموں نے دی آواز کڑی تھی دھوپ مگر سائبان چھوڑ آئے یہ جان کر بھی کہ نا مہربانیاں ہوں گی پرانے شہر میں سب مہربان چھوڑ آئے تلاطم غم دوراں میں بہہ گئے پتوار ہوا کے ہاتھ میں ہم بادبان چھوڑ آئے جہاں سے اذن تکلم کبھی نہیں ملتا وہیں پہ اپنی دریدہ زبان چھوڑ آئے ہمیں پتا تھا کہ معجز بیانیاں ہوں گی زبان خلق مگر بد گمان چھوڑ آئے جہاں کسی کو بھی اپنا پتا نہیں ملتا وجود نورؔ وہیں بے نشان چھوڑ آئے
kahin zamin kahin aasmaan chhoD aae





