Noor Jahan Naz
طے نیم جاں کا آج بھی جھگڑا نہ ہو سکا تجھ سے ستم بھی اے ستم آرا نہ ہو سکا جب درد دل کا تم سے مداوا نہ ہو سکا پھر کچھ بھی تم سے حضرت عیسیٰ نہ ہو سکا اللہ رے روانیٔ چشم شب فراق یوں تیز رو کبھی کوئی دریا نہ ہو سکا اندھیر ہے کہ موت بھی معشوق بن گئی ہر چند چاہا رات کو مرنا نہ ہو سکا کس وقت بہر پرسش بیمار آئے وہ جب آنکھ سے بھی اپنی اشارا نہ ہو سکا
tai nim-jaan kaa aaj bhi jhagDaa na ho sakaa