Noor Mohammad Noor
Noor Mohammad Noor
Noor Mohammad Noor
Ghazalغزل
hamaaraa ashk nahin hai ye qadr-e-gauhar hai
ہمارا اشک نہیں ہے یہ قدر گوہر ہے شکست ضبط نہ کہئے اسے یہ جوہر ہے اسی نے دھوئے ہیں دامن کے داغ اے ہمدم اسی کا آج بھی پتھر کے دل میں کچھ ڈر ہے حدیث رنج و الم سے ڈرا نہ اے ناصح حدیث رنج و الم ہی تو آج گھر گھر ہے خدایا اس سے زیادہ ہوا تو کیا ہوگا نظام زیست بہت آج کل مکدر ہے سر نیاز کی جس کو سدا تلاش رہی اگر ملے جو مقدر سے آپ کا در ہے تمہارے جلوے پہ موقوف ہے نظام حیات اگرچہ طور کا قصہ مجھے بھی ازبر ہے فریب کھا کے بھی وعدوں پہ اعتبار اے نورؔ عجب شعور وفا تیرا میرے دلبر ہے
paaein jo raushni tiri jalva-gari se ham
پائیں جو روشنی تری جلوہ گری سے ہم ہو لیں قریب اور بھی کچھ بے خودی سے ہم کر لے قبول حسن کے صدقہ میں جان و دل فریاد کر رہے ہیں تری دلبری سے ہم ایسا نصیب میرا کہاں میرے ہم زباں کچھ دیر بات کرتے جو ہنس کر کسی سے ہم اے حسن مجھ کو حسن کے صدقہ کی بھیک دے پھیلائے ہاتھ بیٹھے ہیں کس عاجزی سے ہم ٹھکراؤ لاکھ مجھ کو تمہیں اختیار ہے پھر بھی نہ باز آئیں گے اس بندگی سے ہم





