
Noor Mohammad Yaas
Noor Mohammad Yaas
Noor Mohammad Yaas
Ghazalغزل
یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے مجھے سمیٹے ہوئے خود غبار میرا ہے نہ چھین پائے گا مجھ سے کوئی نقوش خیال یہ پھول میرے ہیں یہ شاخسار میرا ہے چلوں تو دھوپ کا بادل ہوں میں خود اپنی جگہ رکوں تو ہر شجر سایہ دار میرا ہے پڑھوں تو نامہ کسی کا ہے چہرہ چہرہ مجھے لکھوں تو خامہ حقیقت نگار میرا ہے جگہ نہ دے مجھے پلکوں پہ کم نہیں یہ بھی کہ موجزن تری آنکھوں میں پیار میرا ہے حصار باندھ لے مجھ میں کہا اداسی نے کوئی نہ آئے یہاں یہ حصار میرا ہے نہ جانے کب سے یہاں منتظر تھا میں اے یاسؔ خبر جب آئی وہاں انتظار میرا ہے
yahaan alag se koi kab hisaar meraa hai
1 views
جب تمہیں دیکھا نہ تھا آنکھوں میں کتنے سائے تھے میں اسی دن سے اکیلا ہوں کہ جب تم آئے تھے آگ بھڑکی جب تو میں یہ سوچتا ہی رہ گیا کاغذی کپڑے مجھے کس وہم نے پہنائے تھے جانے کس نے ہم کو سورج سے کیا تھا منحرف جانے کس نے دھوپ میں وہ آئنے چمکائے تھے آسمانوں سے ہوا تھا نور و نزہت کا نزول آبشار اونچے پہاڑوں سے اتر کر آئے تھے منظروں میں تھی مرے حسن نظر سے آب و تاب پتھروں کے دل مرے احساس نے دھڑکائے تھے آس کے سائے میں ہم سہتے رہے کیسا عذاب آگ تھی قدموں تلے اور سر پہ بادل چھائے تھے دھوپ میں پھیلا دئیے کیوں تم نے یادوں کے گلاب کیا اسی دن کے لیے مجھ سے یہ خط لکھوائے تھے
jab tumhein dekhaa na thaa aankhon mein kitne saae the
1 views





