SHAWORDS
Noor Paikar

Noor Paikar

Noor Paikar

Noor Paikar

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

نہ رہ گزر میں تھی تیری نہ کائنات میں تھی سفر کی ساری صعوبت مری حیات میں تھی نہ جانے کتنے ہی منظر تھے نقش آنکھوں میں ہماری سوچ کی منزل کسی کی ذات میں تھی مجھے کہاں سے کہاں لے گئی ذرا دیکھو وہ ایک طنز کی خوشبو جو اس کی بات میں تھی ہمیں جو پھول بنایا تو دیتے خوشبو بھی ہماری مٹی اے بت گر تمہارے ہاتھ میں تھی ابھی تو سرحد ساحل پہ تھا قدم اس کا عجیب سنسنی لیکن ہماری ذات میں تھی مرے بدن کی حرارت بھی لے گئی پیکرؔ وہ کالی رات جو برسوں سے میری گھات میں تھی

na rahguzar mein thi teri na kaaenaat mein thi

2 views

غزل · Ghazal

ہوائے تند کا جھونکا اداس کر دے گا بدن سے لپٹے گا اور بے لباس کر دے گا عجب ہے شہر کا رستہ کہ جس کا اور نہ چھور یہ راستہ تو مجھے بد حواس کر دے گا تو اجنبی ہے بھرے شہر میں نہ سوچا کر یہ تیرا طرز تجھے روشناس کر دے گا زمانہ پہلے ملے گا تو کج ادائی سے پھر اس کے بعد کوئی التماس کر دے گا وہ میرے بعد بڑے شوق سے مجھے لکھ کر کسی کتاب کا اک اقتباس کر دے گا اس آفتاب سے کرنوں کی بھیک مت مانگو حصار ظلمت شب دل کے پاس کر دے گا مجھے نہ سوچ مری فکر چھوڑ دے پیکرؔ کہ میرا غم تجھے پہروں اداس کر دے گا

havaa-e-tund kaa jhonkaa udaas kar degaa

2 views

غزل · Ghazal

اوراق زندگی کے الٹنے لگے تو ہیں آثار صبح و شام بدلنے لگے تو ہیں کیا غم جو صحن باغ میں آئی نہیں بہار شاخوں پہ چند پھول ہمکنے لگے تو ہیں کالی رتوں میں سہمے ہوئے تھے تمام لوگ اب سینہ تان کر وہ نکلنے لگے تو ہیں عہد ستم گراں میں بھی یہ سادہ لوح لوگ جھوٹی تسلیوں سے بہلنے لگے تو ہیں اب کے ہوا نے کان میں موجوں سے کیا کہا پانی پہ کچھ حباب ابھرنے لگے تو ہیں پیکرؔ وہ ہاتھ جو تھے سرہانے دھرے ہوئے ان ہاتھوں میں بھی تیشے چمکنے لگے تو ہیں

auraaq zindagi ke ulaTne lage to hain

1 views

غزل · Ghazal

مل گئی نجات اس کو اپنی سرگرانی سے منقسم ہوا پتھر بوند بوند پانی سے اب کبھی نہ اترے گی کہکشاں زمینوں پر ہو گئی ہے برگشتہ رات کی کہانی سے کس نے ٹھہرے پانی میں کنکری اچھالی ہے تمتما اٹھا چہرہ خون کی روانی سے وقت کا تقاضہ ہے انگلیوں کو چٹخائیں اک گھٹن سی ہوتی ہے اپنی بے زبانی سے دھوپ اپنی قسمت ہے ابر بن کے مت برسو جی الجھنے لگتا ہے ایسی مہربانی سے

mil gai najaat us ko apni sargiraani se

1 views

غزل · Ghazal

دشت در دشت پھرے آبلہ پائی لے کر ہم تو خوش ہو لئے صحرا کی خدائی لے کر صبح گزری مری دریوزہ گری کرتے ہوئے شام آئی بھی تو کشکول گدائی لے کر وہ پشیمان ادھر اور میں حیران ادھر بت بنے بیٹھے رہے دونوں صفائی لے کر شہر کی گلیوں میں پھرتا ہے کوئی یوں جیسے چاند آوارہ پھرے داغ جدائی لے کر دشت کی چیخ سماعت پہ گراں ہے اب کے کیا کرے کوئی یہاں شعلہ نوائی لے کر ہم کو تڑپاتی رہیں کنج قفس کی یادیں پا بہ زنجیر رہے تجھ سے رہائی لے کر خوب رویا در زنداں سے لپٹ کر پیکرؔ کون آیا تھا یہ پیغام رہائی لے کر

dasht-dar-dasht phire aabla-paai le kar

1 views

Similar Poets