Noorain Faizabadi
Noorain Faizabadi
Noorain Faizabadi
Ghazalغزل
وہ شمع جو بل کھائی وہ ایک نظارہ تھا جو ٹوٹ کے بکھرا ہے وہ خواب ہمارا تھا اس پھول کی خوشبو کو کس طرح بھلاؤں میں سانسوں میں بسایا تھا لفظوں میں اتارا تھا ہر ایک کرن دل پر بجلی سی گراتی تھی اک چاند کے پہلو میں دریا کا کنارا تھا یونہی نہیں ہلتے ہیں شاخوں پہ ہرے پتے زلفوں کا جھٹکنا بھی قربت کا اشارا تھا دنیا نے نہ جانے کیوں دونوں کو الگ رکھا لیلیٰ بھی کنواری تھی مجنوں بھی کنوارا تھا اس پار اترنے کی کرتا میں سعی کیسے دریا میں تلاطم تھا کشتی میں شرارہ تھا سب ہاتھ میں تیرے ہے جو چاہے عطا کر دے جینا بھی گوارا تھا مرنا بھی گوارا تھا ہر خار کو چوما ہے پلکوں سے اٹھایا ہے نورینؔ محبت میں دامن بھی پسارا تھا
vo sham' jo bal khaai vo ek nazaara thaa
2 views
دل گرفتار بلا ہجر کی زنجیر کا ہے اک عجب رنگ تری زلف گرہ گیر کا ہے ایک عالم پہ اثر کرتی ہیں باتیں میری شعر گوئی تو فریضہ مری تقدیر کا ہے شہر ادراک میں تسلیم کیا جاتا ہے جو ہے مقبول جہاں میں وہ بیاں میر کا ہے میں نے کل خواب میں دیکھا تھا تمہارا چہرا مسئلہ خواب نہیں خواب کی تعبیر کا ہے عقل کا کام ہے یہ عقل ہی کر سکتی ہے مرحلہ سامنے تیرے تری تدبیر کا ہے دل کی وارفتگی امید در یار کا خواب کیا پتہ آپ کو یہ سلسلہ تعمیر کا ہے وہ کہیں بھی رہے واپس تو یہیں آئے گا رہنے والا وہ اسی خانۂ دلگیر کا ہے آپ جس شعر کو سن کر ہیں فسردہ نورینؔ رنج کس بات کا نوحہ مری تقدیر کا ہے
dil giraftaar-e-balaa hijr ki zanjir kaa hai
1 views
پاس آ کے بتاؤ تو ذرا بھول گئے ہیں ہم شہر محبت کا پتہ بھول گئے ہیں آنا تھا ترے پاس چلے آئے ہیں لیکن کیا بات ہے مقصود تھا کیا بھول گئے ہیں دنیا کی کشش نے ہمیں دیوانہ کیا ہے کیا شے ہے محبت میں وفا بھول گئے ہیں حالات بدلتے ہی بدل جاتا ہے موسم ہم بوئے چمن باد صبا بھول گئے ہیں ہم نے ہی سنوارے تھے خم زلف بہاراں ملتا ہے کہاں اس کا صلہ بھول گئے ہیں وہ آج مخاطب ہوئے کچھ ایسی ادا سے اک لفظ مروت ہے لگا بھول گئے ہیں قربت کے تقاضے بھی عجب ہوتے ہیں نورینؔ کرنا تھا ہمیں ان سے گلہ بھول گئے ہیں
paas aa ke bataao to zaraa bhuul gae hain
اس کا ارمان اس کی حسرت کیا وہ نہیں ہے تو پھر محبت کیا آپ دل کے مکین ہو گئے ہیں آپ کو اب کوئی اجازت کیا ہجر جب دائمی سا ہو جائے سانس لینے کی پھر ضرورت کیا مارنا ہے تو مار ڈالو مجھے اس قدر عشق میں مروت کیا ایک دیوانگی سی سر میں ہے بن گئی ہے یہ میری عادت کیا کان رکھ کر زمین پر دیکھو آ رہی ہے صدائے الفت کیا آج کل کوئی مشغلہ ہی نہیں ہے اسی شے کا نام فرصت کیا
us kaa armaan us ki hasrat kyaa
اخلاق سے اعلیٰ ہوتا ہے کردار سے بہتر ہوتا ہے ہر بار نظر کرنا خود پر ہر بار سے بہتر ہوتا ہے گر وصل نہیں تو ہجر سہی ہم اس کے سہارے جی لیں گے دروازہ بھلے ہی بند رہے دیوار سے بہتر ہوتا ہے ہر شے کی اپنی خوبی ہے ہر شے میں اس کا جلوہ ہے یہ کس نے کہا ہے گلچیں سے گل خار سے بہتر ہوتا ہے کیوں روز کی خبریں پڑھتے ہو کیوں اپنے سر کو دھنتے ہو انسان کا چہرا پڑھ لینا اخبار سے بہتر ہوتا ہے جب عاشق سچا عاشق ہو معشوق نہیں باقی رہتا جب دائرہ بننے لگتا ہے پرکار سے بہتر ہوتا ہے لفظوں کی ضرورت ہے ہی نہیں کیوں لب کو زحمت دی جائے اپنے کو تماشہ کر لینا انکار سے بہتر ہوتا ہے
akhlaaq se aa'laa hotaa hai kirdaar se behtar hotaa hai





